تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 134 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 134

۱۳۴ مبادى الصرف و النحو اله - الهَيْنِ - اِثْنَيْنِ - مُؤْمِنُونَ - مَلَائِكَةٌ - امْرَءَةٌ نِسَاءُ - بُنَيَّ - عُبَيْدُ ملي - مدني اسم مجرد ہوتے ہیں یا مزید اسم محجر دھلائی کے اوزان ووو شَمْسُ قَمَرُ قَمَرُ كَيف رَجُلٌ قُفُلٌ رُطَبٌ عُنُق حِمْلٌ عِنَبُ إِبِلٌ سورج چاند شانه اسم رباعی مجرد مرد تالہ تر کھجور گردن بوجھ انگور اونٹ جَعْفَرُ۔دِرُهَمْ - زَبْرِجُ - طحلب - قمطر نام۔ایک سکہ کا نام ہے۔زینت - جالا ( پانی میں جو سبزی مائل ہوتا ہے)۔صندوق۔خماسی مجرد سَفَرْجَل قُدَعْمِلُ جَحْمَرِشُ جَرْدَخل یہی اونٹ قوی بوڑھی عورت وادی اسم مقصور جس کے آخر ایک الف لازم ہو۔جیسے ھدی مصطفی۔وہ الف واؤ سے بدل ہو۔یا یا ہے۔جیسے عصى اور فتی۔یا تانیث کے لیے۔جیسے۔حُبلى عطشی یا الحاق کے لیے جیسے آرھی (ایک درخت) ذفری جَعْفَرٌ۔اور دِرْهَم کے ساتھ ملانے کے لیے۔اور محدود وہ ہے جس کے آخر ہمزہ اور اس کے پہلے الف ہو۔جیسے قُراء۔وہ ہمزہ بدل ہو واؤ سے جیسے۔سماء یا یا سے جیسے بنا یا تانیث کے لیے جیسے حَسُنَاءُ خَضْرَاءُ یا الحاق کے لیے جیسے عِلبَاء ( گردن کی جانب کا ٹھ) لحق بقرطاس ہے۔اسم منقوص وہ اسم جس کے آخر یا مساکنہ اور اس کے ماقبل کسرہ ہو جیسے داعی۔جس اونٹنی کے کان کے پیچھے سے پسینہ بہت ہے۔