تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 135

مبادى الصرف و النحو ۱۳۵ دسواں سبق اسم مبنی ہوتا ہے یا معرب۔بنی وہ جس کا آخر عامل کے باعث نہ بدلے۔اور وہ ضمیرین - اسْمَاءُ إِشَارَة - مَوْصُولات - أَسْمَاءُ الْأَفْعَالَ- أَسْمَاءُ الْأَصْوَات۔اسماء شرط ہیں۔استفہام (مَنْ مَا مَاذَا مَتَى أَيَّانَ أَيْنَ كَيْفَ أَتى كَمْ) بعض ظروف (إِذْ إِذَا الْآنَ حَيْثُ أَمْسِ) اعداد مرکبہ ظروف اور احوال کا آخر مبنی علی الفتح ہوتا ہے جیسے إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا۔صَبَاحَ مَسَاءَ وَهُوَ جَارِى بَيْتَ بَيْتَ اور اسماء الجہات ظروف جب مقطوع الاضافہ ہوں تو مبنی ہوتے ہیں جیسے لِلهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَحَسْبُ وَأَوَّلُ - يت تومبنى على الضم ہوں گی اور جس اسم کے آخر یہ ہو یا فعال کے وزن پر ہو مبنی علی الکسر ہوتا ہے جیسے سيبويه وَحَذَامِ وَ خَبَاتِ وَنَزَالِ- وہ اسم ہے جس میں عامل کے باعث تغیر واقع ہو مثلاً جب کوئی اسم فاعل ہو یا نائب فاعل۔مبتدا۔خبر۔اشم كَانَ۔وغیرہ اور خبر ان وغیرہ ہو تو اس پر پیش آ جاوے یا پیش کا قائم مقام تثنیہ۔کلا - کلتا۔جب ضمیر کی طرف مضاف ہوں۔اِثْنَانِ اثْنَتَانِ میں الف اور جمع مذکر سائم اور أَسْمَاءِ سِتَّةٌ مُوَخَدَه (آب۔آخ۔كم فُوَ ذُو اور حسن) اگر غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان میں واؤ۔اور جب اسم مفعول بِهِ مَفْعُول مُطلَقُ مَفْعُول لَهُ مَفْعُول فِيْهِ مَفْعُول مَعَهُ خبر کان وغیرہ۔اسم ان وغیرہ۔حال تمیز۔بعض مستی اور بعض منادی ہو تو اس پر زیر یا ز بر کے ۲۱