تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 133
مبادى الصرف و النحو ۱۳۳ اور ایک پنا ہے مرکب۔اور وہ ہے جس میں دو اعراب یا دو بنا یا ایک اعراب اور ایک بنا ہو۔مثلاً إلهُ وَاحِدٌ - أَحَدَ عَشَرَ - اَلْحَمْدُ - اور کہا ہے کہ جہاں لفظ کے اجزا معنے کے اجزا کو ظاہر کریں وہ مرکب ہے۔اور جہاں ایسا نہ ہو وہ و، مفرد ہے۔جیسے۔اللهُ مَلَكَ رَسُولُ مُحَمَّدٌ قِيَامَةٌ شَهَادَةٌ صَلوةٌ زَكَوةٌ صَوْمٌ حَج یہ سب مفرد ہیں۔(مرکب کی مثالیں پہلے لکھ چکے ہیں۔) مفرد کی تین قسمیں ہیں۔۱۔اسم ۲ فعل اور ۳۔حرف۔اور مرکب۔۱۔جملہ ۲۔کلام اور ۳۔مرکب غیر مفید۔اسم وہ ہے جس کی خبر دی جاوے۔اسم کے ابتدا میں آل اور آخر میں تنوین یا کسی عامل کے باعث زیر آجایا کرتی ہے اور اسم کو مضاف بھی کر دیا کرتے ہیں۔جیسے الْحَمْدُ لِلهِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ - امَنَّا بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ (استاد کھول کر سمجھا دے اس میں ہم نے مفرد اور مرکب بتادیئے ہیں ) پھراسم معرفہ ہوتا ہے یا نکرہ معرفہ کے اقسام ا - علم ۲- معرف باللام - ضمائر - اسم اشاره ۵-موصول ۶۔موصوف اور ے۔وہ اسم جو ان معرفوں کی طرف مضاف ہو اور ۸۔بعض مُعَرَّف بالدا جیسے ا - الله - الصَّمَدُ - ٣- هُوَ اللهُ - اَنْتَ الرَّبُّ أَنَا الْعَبْدُ - ٢- ذَلِكَ الْكِتَبُ - هَذَا الْحَقِّ - ۵- الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ - الَّذِينَ أَنْعَبْتَ عَلَيْهِمْ - أَمَّهُتُكُمُ الَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ - يَا عَبْدَ اللهِ- يُوسُفُ - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - رَسُولُ اللَّهِ - رَسُولُهُ - رَسُولُكُمْ - دَاعِيَ الْحَقِّ فَأْتُوا بِكِتَبِ مِثْلِ هَذَا صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - صَاحِبُ رَجُلٍ فَاضِلٍ نکره - مَنْ الهُ غَيْرُ اللَّهِ - اسم واحد ہوتا ہے یا تثنیہ یا جمع اور مذکر ہوتا ہے یا مؤنث۔مصفر ہوتا ہے اور منسوب۔۱۹