تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 11

دوسرے وقت غنی وغیرہ وغیرہ۔11 ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ایسی مختلف حالتوں میں کمزور انسان کے خیالات ہرگز ہرگز یکساں نہیں رہ سکتے ان میں تغیر اور اختلاف ضرور آ جاتا ہے مگر قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں با آنکہ تیئیس برس اور مختلف حالتوں میں اترا۔اور قرآن مجید نے اپنی صفت میں یہ بھی فرمایا ہے كِتبًا مُتَشَابِهًا جب میں نے قرآن مجید سے ثابت کر دیا کہ نہ تو حضور علیہ السلام کو کوئی شک وشبہ ہے اور نہ قرآن میں اختلاف۔تو اب سائل کے سوال پر توجہ کرتا ہوں۔کیوں؟ اس لئے کہ مجھ کو کتاب مجید اور فرقان حمید سے جیسے گز را ثابت ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یقین کے اعلیٰ درجہ پر تھے اور قرآن میں اختلاف نہیں ، پھر سائل کہتا ہے کہ قرآن سے معلوم ہوتا کہ ہادی اسلام متشکلک تھے۔بڑی دلیل سائل کی سورۃ بقرہ کی آیت ذیل ہے۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (البقرة: ۱۳۸) سواس کا پہلا جواب یہ ہے لَا تَكُونَنَّ نفی کا صیغہ ہے نہ نہی کا اور تاکید کے واسطے نون مشدد اس کے آخر زیادہ کیا گیا تو لا تَكُونَنَّ ہو گیا۔مشد دنون ماضی اور حال پر نہیں آ سکتا۔پس لا تَكُونَنَّ استقبال کا صیغہ ہوگا۔اب اس تحقیق پر آیت کے یہ معنے ہوں گے:۔یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے ( چونکہ الہی الہام اور دلائل سے یہ حق ثابت ہو گیا ) تو تو کبھی شک والوں میں سے نہ ہوگا۔دوسرا جواب۔ہم نے مانا لا تكونَنَّ نفی نہیں نبی کا صیغہ ہے۔مگر ہم کہتے ہیں نہی دو قسم ہوتی ہے۔ایک طلب ترک فعل۔دوم طلب عدم فعل۔سائل کا اعتراض اس صورت میں ہے کہ یہاں نہی کو بغرض طلب ترک فعل لیا جاوے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ مخاطب فعل شک کو ترک