تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 12
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۲ کر دیوے۔مگر ہم کہتے ہیں یہاں شک معدوم ہے اور نہی کا منشا یہ ہے کہ جیسے شک معدوم ہے آئندہ بھی معدوم رہے۔تیسرا جواب۔سائل ! یہاں آیت فَلَا تَكُونَنَّ میں ایسا کونسا امر ہے جس کے باعث ہم کو خواہ مخواہ مانا پڑے کہ لا تَكُونَن کے مخاطب ہادی اسلام میں صلی اللہ علیہ وسلم۔ہم کہہ سکتے ہیں بدلائل مذکورہ سابقہ حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت پر یقین تھا اور قرآن کریم میں اختلاف نہیں۔اس لئے ثابت ہوا لا تَكُونَنَّ کا مخاطب کوئی متردد اور شک کرنے والا آدمی ہے نہ حضور علیہ السلام۔چوتھا جواب۔ہم نے مانا اس جملہ لا تَكُونَنَّ کے مخاطب ہمارے پاک ہادی علیہ السلام ہیں مگر عبری اور عربی کا طرز کلام با ہم قریب قریب ہے اور کتب مقدسہ کا غیر محرف حصہ اور قرآن کریم دونوں ایک ہی متکلم کے کلمات ہیں اور دونوں ایک ہی مخرج سے نکلے ہیں اور دونوں کا محاورہ ہے کہ اعلیٰ مورث کو مخاطب کیا جاتا ہے اور مراد اس مورث کی قوم ہوتی ہے۔کسی کو خطاب کرتے ہیں اور کسی دوسرے کو مقصود بالخطاب رکھتے ہیں۔دیکھو یرمیا۔ہائے کہ وہ دن بڑا ہے یہاں تک کہ اس کی مانند کوئی نہیں وہ یعقوب کی مصیبت کا وقت ہے۔بر میا ۳۰ باب ۷ - ۱۰۔اے میرے بندہ یعقوب ہراساں مت ہو۔بر میا ۴۶ باب ۲۸۔خداوند کا یہوداہ کے ساتھ بھی ایک جھگڑا ہے اور یعقوب کو جیسے اس کی روشیں ہیں ویسی سزا دے گا۔ہوسیع ۱۲ باب ۲۔دلاوری سے لبالب ہوں کہ یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتا دوں میکه ۳ باب ۸۔یعقوب کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کرے گا۔نحوم ۲ باب۲۔اے ۱۲