تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 10
رسول اور فی نفس الامر استثنا ۸ ا باب والے رسول ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اسی واسطے قرآن کریم بار بار حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی اور اپنے آپ کو مصدق لِمَا مَعَكُمْ (ال عمران: ۸۲) فرماتا ہے۔کیا معنی قرآن کریم اور نبی عرب نے اپنے ظہور اور حفاظت اور قتل سے بیچ کر تو ریت کو سچا کر دکھایا۔اب آگے سنو۔قرآن کریم نے دعوئی فرمایا ہے ” قرآن میں اختلاف نہیں“۔وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ( النساء:۸۳) قرآن کریم اگر اللہ تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں ضرور اختلاف ہوتا اور بہت اختلاف ہوتا۔کیونکہ اختلاف دو طرح کا ہو سکتا ہے۔اوّل یہ کہ قرآن کریم کے مضامین کو قانون قدرت تکذیب کرے اور قرآنی مطالب الہی انتظام اور فطری قوانین کے مخالف ہوں۔یا ہمارے فطری قویٰ ان کو برداشت نہ کر سکیں۔دوسری صورت اختلاف کی یہ ہے۔قرآنی مضامین با ہم متعارض ہوں۔غور کرو! ان پڑھ عرب کے ان پڑھ عربی نے (اللَّهُمَّ فَرِجُ عَنِّى مَا أَسْأَلُكُمْ) یہ قرآن لوگوں کو سنایا۔پھر تیرہ سو برس کی سر توڑ نیچرل فلاسفی کی تحقیقات نے حضرت قرآن کلام الرحمن کے کسی مضمون کو یقینی طور پر نہ جھٹلایا اور اس تجربہ سے یقیں ہو گیا کہ آئندہ بھی کبھی نہ جھٹلائے۔دوسری صورت اختلاف کی نسبت عرض ہے قرآن کریم تنیس برس میں لوگوں کو سنایا گیا اور اس مدت دراز میں حضور علیہ السلام کبھی تن تنہا ہیں اور کبھی ہزاروں ہزار خدام پر حکمران۔کبھی دشمنوں پر حملہ آور اور کبھی احباب کے درمیان۔گاہے گھر میں بیبیوں سے معاشرت۔کسی وقت اعدا سے مباشرہ کبھی عرب کی بے دین اور جاہل قوم سے مکالمہ اور کبھی نصاری اور یہود کے علما سے مناظرہ۔ایک وقت فقر ہے اور 1۔