365 دن (حصہ سوم) — Page 31
درس القرآن 31 درس القرآن نمبر 178 تزکیہ یعنی نفوس کی پاکیزگی اور جماعت کی نشو ونما اور ترقی کے دو بنیادی اصول بیان کر کے بنی اسرائیل کی تاریخ کی ایک بہت اہم مثال تفصیل سے پیش کی ہے جس میں اس اہم معاملہ میں ان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کر دی۔مگر ان میں سے اطاعت کرنے والوں اور قربانی کے لئے تیار رہنے والوں کی غیر معمولی کامیابی اور فتح کا نمونہ بھی امت محمدیہ کے لئے پیش کر دیا تا کہ امت محمدیہ ان غلطیوں سے بھی بچنے کی کوشش کرے اور کامیابی اور فتح سے بھی ہمکنار ہو۔فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی کہ تمہیں بنی اسرائیل کے ان سر کردہ لوگوں کا حال معلوم نہیں ہو ا جو موسیٰ کے بعد گزرے ہیں اِذْ قَالُوا لِنَبِي لَهُمْ ابْعَثْ لَنَا مَلِحًا تُقَاتِلُ في سَبِيلِ اللہ کہ ہمارے لئے کوئی بادشاہ مقرر کر دیجئے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں قال اس نبی نے (جس کا نام بقول بائبل سموئیل تھا) فرمایا هَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَا تُقَاتِلُوا کہیں ایسا تو نہیں ہو گا اگر تم پر جنگ فرض کی جائے کہ تم جنگ نہ کرو قَالُوا وَ مَا لَنَا الا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَقَدْ أَخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ ابْنَا بِنَا انہوں نے کہا ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے، اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ مگر جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے ایک قلیل جماعت کے علاوہ باقی سب پھر گئے وَاللهُ عَلِيمٌ بالظلمین اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔اس آیت میں جہاد بالسیف کے بارہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے مامور کی اجازت سے ہو نا چاہیے اور اس کے لئے مضبوط مرکزی قیادت کی ضرورت ہے اور محض نعرے لگا کر جہاد کا مطالبہ کافی نہیں اس کے لئے حقیقی عزم اور قربانی کی ضرورت ہے۔(البقرة: 247) دوام