365 دن (حصہ سوم) — Page 32
درس القرآن 32 القرآن نمبر 179 وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِحًا قَالُوا إِلى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللهَ اصْطَفْهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَة بَسْطَةٌ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة : 248) گزشتہ درس میں ذکر تھا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں نے حضرت موسیٰ کے بعد اپنے نبی سے جہاد کے لئے بادشاہ بنانے کی درخواست کی۔آج کی آیت میں بیان ہے کہ جب اس نبی علیہ السلام نے یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے تو چونکہ بقول بائبل طالوت نسبتاً غریب اور کمزور قبیلہ کے فرد تھے اس لئے اس نبی علیہ السلام نے جس خدشہ کا اظہار کیا تھا وہ درست نکلا، فرماتا ہے وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا کہ جب ان کے نبی نے ان کو کہا کہ اللہ نے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے تو قَالُوا آئی يَكُونُ لَهُ المُلْكُ عَلَيْنَا انہوں نے کہا اس کو ہم پر بادشاہی کس طرح مل سکتی ہے وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ منہ اور ہم بادشاہت کے اس سے زیادہ حق دار ہیں ولَم يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ اور اس کو تو مالی وسعت بھی نہیں دی گئی۔اس کے جواب میں نبی علیہ السلام نے حضرت طالوت کی بادشاہی کے حق میں تین دلائل پیش کئے اور فرمایا اِنَّ اللهَ اصْطَفَهُ عَلَيْكُم پہلی بات تو یہ ہے اللہ نے خود اس کا انتخاب فرمایا ہے اور تم لوگوں پر اس کو ترجیح دی ہے وَ زَادَهُ بَسْطَةٌ فِي الْعِلْمِ اور علمی وسعت جو امامت اور قیادت کے لئے نہایت ضروری ہے اس کو اس میں بڑھایا ہے وَالْجِسْمِ اور اس کام کے لئے جس دل کی مضبوطی اور دلیری کی ضرورت ہے وہ اس کو عطا فرمائی ہے اس آیت میں گو یا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلافت راشدہ کی تین بنیادی صفات کی طرف توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے وَاللهُ يُؤْتِى مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ کہ اللہ بندوں کا محتاج نہیں وہ جسے مناسب سمجھتا ہے اپنی حکومت عطا فرماتا ہے وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ تم طالوت کو غریب سمجھتے ہو ، لا علم سمجھتے ہو حالانکہ وسعت اور علم کے خزانے تو اس کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔