365 دن (حصہ سوم) — Page 30
درس القرآن درس القرآن نمبر 177 وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 30 (البقرة:245) گزشتہ آیت میں بیان فرمایا تھا کہ تم نے دیکھا نہیں کہ کچھ لوگ جو کئی ہزار تھے موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُوتُوا ثُمَّ احْيَاهُم تو اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا موت کے ڈر سے ، موت سے بچنے کے لئے نکلے ہو تو اس کا ذریعہ ، اس کا علاج ہے مُوتُوا اسی تسلسل میں آج کی آیت میں فرماتا ہے ان کو حکم ہوا وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ کہ خدا کی راہ میں جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔تمہارا مقصد جنگ کوئی غنیمت کا حصول، کوئی شہرت کا سامان کرنا، کسی ملک کی فتح نہ ہو۔اللہ تعالیٰ خوب سنتا اور خوب جانتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔”فرماتا ہے۔اے امت محمد یہ تم اس قوم کی حالت کو دیکھو جسے موسیٰ "مصر سے اس لئے نکال کر لائے تھے کہ اسے ایک ایسے ملک کی حکومت حاصل ہو۔لیکن جب انہیں اپنے دشمنوں سے جو اُن کے ملک پر قابض تھی لڑنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اس پر خدا تعالیٰ نے انہیں اس ملک کی حکومت سے چالیس سال تک کے لئے محروم کر دیا اور وہ جنگلوں میں بھٹک بھٹک کر مر گئے۔غرض باوجود اس کے کہ موت ان کو اپنے گھروں میں بھی آئی تھی انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں موت کا پیالہ پینے سے انکار کر دیا اور تباہ ہو گئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اس قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور خدا تعالی کی راہ میں جہاد کرنے سے کبھی انکار نہیں کرنا چاہیے۔جو قوم موت سے ڈرتی ہے وہ دنیا میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 548 مطبوعہ ربوہ) تزکیہ نفس کے اس بنیادی ترین ذریعہ کے بعد دوسرا اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَةَ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْضُطُ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ ( البقرة : 246) کہ دشمن کے مقابلہ میں جانی قربانی پیش کرنے کے علاوہ دوسرا مقام مالی قربانی کا ہے۔فرمایا کون ہے جو اللہ کو اپنے مال کا اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے تو اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر عطا کرے کیونکہ اللهُ يَقْبِضُ اللہ لیتا تو ہے مگر وَ يَبفظ اپنے پاس رکھنے کے لئے نہیں بلکہ وہ کھول کر دیتا ہے اور صرف اس دنیا میں نہیں۔یہ بھی یاد رکھو وَ الَیهِ تُرْجَعُونَ تم بالآخر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور یہ کئی گناواپس ملنے کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہے گا۔