365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 19 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 19

درس القرآن القرآن نمبر 168 19 وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ في أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَ يُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ بُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَيْهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرة: 229) دوسری بات جو اس آیت میں بتائی گئی ہے (پہلی بات کا ذکر گزشتہ درس میں ہو چکا ہے) یہ ہے کہ عورت طلاق کے معابعد کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرے بلکہ قریب تین ماہ انتظار کرے تا کہ اگر کسی وقتی مسئلہ کی وجہ سے طلاق ہوئی ہے تو رجوع ہو سکے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔عدت کی حکمت بالکل واضح ہے۔اس عرصہ میں خاوند کو سوچنے اور غور کرنے کا کافی وقت مل جاتا ہے۔اور اگر اس کے دل میں اپنی بیوی کی کچھ بھی محبت ہو تو وہ رجوع کر سکتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 511 مطبوعہ ربوہ) تیسری بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یہ ہے وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَ إِنْ كُنَ يُؤْمِنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔عورت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ حاملہ ہو تو مرد کو بتادے۔کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی وجہ سے پھر محبت قائم ہو جاتی ہے اور میاں بیوی میں صلح کی صورت پید اہو جاتی ہے۔“ تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 511 مطبوعہ ربوہ) چوتھی بات میں یہ اشارہ ہے کہ بعض دفعہ طلاق کا باعث اولاد نہ ہونا ہوتا ہے اس مذکورہ بالا بیان میں اشارہ ہے کہ عورت مرد کو لازماً بتا دے کہ وہ حاملہ ہے تا کہ خاوند کے لئے یہ الجھن دور ہو جائے اور وہ نیک نیتی کے ساتھ رجوع کر سکیں۔پانچویں بات یہ بتائی گئی ہے وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ حضرت مسیح موعود