365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 18 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 18

درس القرآن 18 س القرآن نمبر 167 وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ في أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَ يُؤْمِنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَيْهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إصْلَاحًا وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرة: 229) فرماتا ہے ، وَالْمُطَلَقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ اور وہ عورتیں جن کو طلاق دی جائے تین حیض کی مدت تک اپنے آپ کو روکے رکھیں ووَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ في أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَ يُؤْمِنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اور ان کے لئے جائز نہیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کر دی ہے وَبُعُولَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدْهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا اور اس صورت میں ان کے خاوند زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں واپس لے لیں اگر وہ اصلاح چاہتے ہیں۔60 وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ اور ان عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا مر دوں کا ان پر ہے وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَہ اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اللہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں طلاق کے اہم مسئلہ پر جو نکات بیان کئے گئے ہیں وہ اسلامی تعلیم کی برتری کا ایک واضح بیان ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے طلاق کی اجازت تو دی ہے مگر اس کے بارہ میں کھلی چھٹی نہیں دی بلکہ بے ضرورت طلاق کو حد درجہ ناپسند فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔آریہ لوگ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہو تا ہے بالکل لاجواب اور عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا ترسی کی قوت سے کام نہیں لیتے۔بلکہ اسلام کے مقابل پر نہایت مکر وہ اور بے جا افتر اؤں پر آجاتے ہیں۔چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔حالا نکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہر یک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہور ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔“ آریدہ دھرم روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 65) (باقی آئندہ درس میں )