365 دن (حصہ سوم) — Page 17
درس القرآن 17 رس القرآن نمبر 166 لِلَّذِينَ يُؤْتُونَ مِنْ نِّسَابِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَ إِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة:227،228) جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں احکامات اور ان کی حکمتوں کا ذکر ہے اور اس حصہ کے زیر تفسیر حصہ میں عائلی احکامات اور ان کی حکمتوں کا ذکر ہے اور اس سلسلہ میں گزشتہ دو آیات میں تمہید کے طور پر یہ بنیادی مضمون بیان تھا کہ خدا کا نام لے کر قسم کھانے کے ذریعہ عائلی تعلقات میں رخنہ پیدا کرنا لغو کام ہے۔آج کی آیت میں اس کی واضح مثال موجود ہے کہ لِلَّذِينَ يُؤْتُونَ مِنْ نِّسَا بِهِمْ جو لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہونے کے لئے قسم کھالیتے ہیں تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ان کے لئے صرف چار مہینہ تک انتظار کرنا جائز ہے فان فاء وا پھر اگر وہ اس عرصہ میں صلح کے خیال کی طرف لوٹ آئیں فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ تو اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس انتظار کے وقت میں اگر خاوند کی غلطی ہے تو اس کی غلطی کی اصلاح کے سامان بھی ہو سکتے ہیں اور اگر بیوی کی غلطی کی وجہ سے خاوند اس سے علیحدگی کی قسم کھا رہا ہے تو بیوی کی اصلاح کا سامان بھی اس عرصہ میں ہو سکتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو معلقہ چھوڑنے کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے۔مرد زیادہ سے زیادہ مدت نکاح میں چار ماہ تک کے لئے عورت سے علیحدہ رہنے کا عہد کر سکتا ہے۔اگر کوئی شخص تھوڑی تھوڑی مدت کے لئے ایلاء کرے مثلاً دس دن کیلئے ایلاء کیا اور پھر رجوع کر لیا۔پھر دس دن کے لئے نیا ایلاء کیا اور پھر رجوع کر لیا۔تب بھی اس کے لئے مجموعی طور پر چار ماہ کی ہی مدت مقر ر ہے۔اگر وہ چار ماہ کے بعد ایلاء کریگا۔تو وہ ایلاء نا جائز ہو گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 509،510 مطبوعہ ربوہ) فرماتا ہے وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِیم اس آیت کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں سو یا د رکھیں کہ خد ا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بد دعا کرے تو خدا اس کی بد دعا سن لے گا۔“ (آریہ دھرم روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 52)