365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 99 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 99

99 83 درس حدیث نمبر 83 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ( بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب 6114) ہمارے ملک میں جب کبڈی کا میچ ہو رہا ہوتا ہے تو ہماری پبلک بڑے زوق و شوق سے مقابلہ دیکھنے جاتی ہے۔ایک پہلوان جب دوسرے کو پچھاڑ تا ہے تو واہ واہ کے نعرے بلند ہوتے ہیں، تالیاں پیٹی جاتی ہیں جیتنے والے پر نوٹ نچھاور کئے جاتے ہیں۔دیکھنے والے تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔اس عارضی فتح پر جو چند لمحوں کی فتح ہوتی ہے ، اس وقتی خوشی پر جو چند گھنٹوں سے زیادہ کی خوشی نہیں ہوتی، جس کا فائدہ بھی اس دنیا میں محدود ہے اور وہ بھی زندگی کی ایک دو شاخوں میں لوگ اس کو عظیم سمجھتے ہیں مگر ہمارے نبی صلی للہ ہم نے اس فتح کو جو صرف اس دنیا میں کام نہیں آتی مگر دوسری دنیا میں بھی فوز عظیم بہت بڑی کامیابی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس دنیا میں نہایت مفید اور بابرکت نتائج پیدا کرتی ہے۔آپ نے اس فتح کو اصل فتح قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایک پہلوان جو دوسرے پہلوان کو پچھاڑ لیتا ہے اصل بہادری کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔اصل بہادر وہ ہے جو يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ جس کو غصہ آیا ہوا ہو اور وہ سزا دینے کی ، بدلہ لینے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔پھر وہ اپنے غصہ پر قابو پالیتا ہے اور رد عمل دکھاتا ہے اور پھر حضور صلی الی یکم نے صرف نصیحت نہیں کی بلکہ اس پر صبر اور کنٹرول کا ایک نسخہ بھی بتایا کہ جو شخص غصہ کے وقت اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ پڑھے تو اس کے غصہ کی کیفیت جاتی رہے گی۔( بخاری کتاب الأدب باب الحذر من الغضب 6115) اس سے بڑھ کر حضور صلی ایم نے صریح ظلم کے خلاف غصہ نہ کرنے کا عظیم الشان اسوہ حسنہ بھی دکھایا اور بار بار دکھایا۔مثلاً ایک موقعہ پر جب ابو جہل نے آپ صلی ایم کے چہرہ مبارک پر طمانچہ مارا تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا، کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور صبر اور ضبط کا اعلیٰ ترین نمونہ دکھایا۔