365 دن (حصہ سوم) — Page 100
100 درس حدیث نمبر 84 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الم نے فرمایا: نَزَلَ نَبِيٌّ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِبَيْتِهَا فَأَحْرِقَ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ( بخاری کتاب بداء الخلق باب خمس من الدواب فواسق، يقتلن في الحرم 3319) آج کی دنیا میں جو باتیں انسان کے نقصان دینے والی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ جانوروں اور درختوں کو بے دریغ ختم کیا جارہا ہے۔جانتے بوجھتے یا بغیر ارادہ کے یہ دونوں چیزیں نقصان پر نقصان اٹھارہی ہیں۔آہستہ آہستہ اب بعض ممالک میں اس خطرہ کی طرف توجہ ہے۔مگر جو کوششیں اس خطرہ کو دور کرنے کی کی جارہی ہیں۔وہ خطرہ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔اس خطرہ کی وجہ سے فضاء میں آلودگی پیدا ہورہی ہے۔جو حدیث ہم نے پڑھی ہے اس میں اس کے تدارک کی طرف اشارہ ہے۔حضور صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ایک چیونٹی ان کو کاٹ گئی تو انہوں نے فرمایا کہ درخت کے نیچے سے ان کا سامان نکال لیا جائے اور وہاں جو چیونٹیوں کی کانی ہے اس کو آگ لگادی جائے۔اس پر اس نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی هَلَّا نَمْلَةٌ وَاحِدَةٌ کیوں نہ صرف ایک چیونٹی و۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ نظام کائنات میں ایک توازن ہے۔اگر انسان اپنے زور بازو سے یا اپنی ضروریات کے لئے اس نظام کو غلط رنگ میں استعمال کرتا ہے تو وہ اس توازن کو بگاڑتا ہے۔بے شک شریعت میں بھی بعض جانوروں کو ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔مگر وہ اس پیمانہ پر ہے جس پیمانہ پر درخت کی چھانٹی کی جاتی ہے۔یہ چھانٹی درخت کے لئے مضر نہیں ہوتی بلکہ اس کی بڑھوتری کا موجب ہوتی ہے۔مگر آج کل کے تمدن اور معاشی صور تحال نے ہزاروں انواع و اقسام کے جانوروں اور نباتات کو جن کا وجود انسان کے لئے مفید ہے، ختم کر دیا ہے۔حضور صلی الی ظلم کے اس ارشاد میں اس کا علاج ہے۔