365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 98 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 98

98 درس حدیث نمبر 82 حضرت انس بیان کرتے ہیں كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ يا اللهُ أَكْثَرُنَا ظِلَّا الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وَامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا فَقَالَ النَّبِيُّ الله ذَهَبَ المُفْطِرُوْنَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ (بخاری کتاب الجہاد والسیر باب فضل الخدمة في الغزو2890) قرآن شریف نے نیکی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ صرف اتنا نہیں کہ وہ کام اپنی ذات میں نیک ہو بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ کام صالح ہو ، عین وقت اور موقع اور ضرورت کے مطابق بھی ہو۔یہ واقعہ جو انس نے بیان فرمایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح ہوا کہ حضور صلی الی یا اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور شدید گرمی تھی اور کوئی درخت یا عمارت یا پہاڑ وغیرہ کا سایہ نہ تھا۔کیونکہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے سوائے اس کی اپنی چادر کے کوئی سایہ نہ تھا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ روزہ سے تھے اور کچھ بغیر روزہ کے تھے۔اب عام دیکھنے والا شاید ان لوگوں کی تعریف کرتا جو گرمی کی شدت اور سفر کے باوجو د روزہ رکھے ہوئے تھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ نے تو روزہ رکھا ہو ا تھا وہ تو کچھ کام نہ کر سکے مگر جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے فَبَعَثُوا الرّابَ وَامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا انہوں نے اونٹوں کو اٹھایا اور ان کی دیکھ بھال کی اور (دوسرے) کام کئے۔نبی صلی یم نے فرمایا ذهب المُفْطِرُوْنَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ کہ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے۔اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیکی میں حالات اور ضرورت اور موقعہ اور وقت کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔