365 دن (حصہ سوم) — Page 55
درس القرآن 55 درس القرآن نمبر 201 يَبْحَقُ الله الرّبُوا وَيُرْبِي الصَّدَقَتِ وَاللهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وووو وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَونَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ردردور وَلَا هُمْ يَحْزَنون (البقرة : 278 277) حضرت مصلح موعودؓ پہلی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ترقی عطا فرمائے گا جو سود سے پر ہیز کریں گے اور صدقات پر زور دیں گے۔اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب اسلام کی تعلیم اپنی مکمل صورت میں دنیا میں قائم کی جائے گی اور ربو جسے مال کو بڑھانے والا قرار دیا جاتا ہے وہ مٹادیا جائے گا اور صدقات جنہیں مال کو گھٹانے والا قرار دیا جاتا ہے ان کی بے انتہاء زیادتی ہو گی گویا پرانے نظام کو بدل کر ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا اور قرآن اور اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے وقوع میں آجائے گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 637،638 مطبوعہ ربوہ) دوسری آیت اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ وَاَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ لَهُمُ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ میں اس اسلامی نظام اور ماحول کا نقشہ ہے جس کا ایک حصہ زکوۃ ہے جو ربو (سود) کی احتیاج کو ختم کرتا ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔چونکہ پیچھے صدقات پر بہت زور دیا گیا ہے اس لئے ممکن تھا کہ کوئی شخص یہ خیال کر لیتا ہے کہ صرف صدقہ دے دینا ہی کافی ہے اسی سے نجات ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرماتا ہے کہ ترک ربو اور صدقات کا دینا ہی کافی نہیں بلکہ ہر قسم کے اعمال صالحہ کی بجا آوری اور نمازوں کی پابندی اور زکوۃ کی ادائیگی بھی ضروری ہے صرف ایک پہلو پر زور دے کر تم نجات حاصل نہیں کر سکتے جب تک ایمان کے ساتھ عمل صالح اور اقامتِ صلوٰۃ اور ایتائے زکوۃ نہ ہو اور تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ کے لحاظ سے تمہارے ایمان کی تکمیل نہ ہو اس وقت تک تمہیں نجات میسر نہیں آسکتی۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 638 مطبوعہ ربوہ)