365 دن (حصہ سوم) — Page 54
درس القرآن القرآن نمبر 200 54 الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطنُ مِنَ الْمَسَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبوا وَ اَحَلَ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبُوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُةٌ إِلَى اللهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة : 276) انفرادی اور جماعتی تزکیہ یعنی پاکیزگی اور نشو و نما کے لئے مالی قربانی کا تفصیلی بیان کرنے کے بعد اس مضمون کے ایک اور پہلو پر مضمون شروع ہوتا ہے یعنی سود کے ذریعہ مال بڑھانے کا مضمون۔فرماتا ہے ، جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوتے مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے اپنے مشن سے حواس باختہ کر دیا ہو ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الربوا یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا یقیناً تجارت سود ہی کی طرح ہے جبکہ اللہ نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔اب دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت کے لئے ایک ایسی دلیل دی ہے جو ساری دنیا دیکھ رہی ہے وہ سوپر (Super) قومیں جو سود کھاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ سود اور تجارت میں کوئی فرق نہیں وہ کس طرح شیطانی اثرات سے حواس باختہ ہیں۔آج ویت نام کے معصوم عورتوں اور بچوں پر حملہ ہے ان کے علاقے کے جنگل کے جنگل زہریلی گیس کے ذریعہ برباد کئے جارہے ہیں، تو دوسرے دن تائیوان کے جزیرہ کی باری آجاتی ہے، تیسرے دن کو یت پر حملہ کر دیا جاتا ہے، چوتھے دن ایران اور عراق کی باہمی جنگ انگیخت کر کے معصوم 13 سالہ ایرانی لڑکوں کا خون بہایا جاتا ہے پھر عراق پر حملہ کر دیا گیا تھا۔عالمگیر مہلک ہتھیاروں کی تلاش کے نام پر عالمگیر مہلک ہتھیاروں کے ذریعہ حملہ کیا جاتا ہے، پھر افغانستان کی باری آجاتی ہے۔فرماتا ہے ، فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ امْرُةٌ إِلَى اللَّهِ جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آجائے اور وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا وہ معاملہ اللہ کے سپر د ہے وَمَنْ عَادَ اور جو کوئی دوبارہ ایسا کرے گا فَأُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ تو یہی لوگ ہیں جو آگ والے ہیں هُمُ فِيهَا خَلِدُونَ اور پھر اس (کشمکش سے ) ان کا نکلنانہ ہو سکے گا۔