365 دن (حصہ سوم) — Page 119
119 درس حدیث نمبر 101 حضرت جابر بیان کرتے ہیں: كَانَ النَّبِي الله يُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَالسُّورَةِ مِنَ الْقُرْآنِ (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة6382) انسان کو اپنی زندگی میں بہت سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور بعض ایسے امور ہوتے ہیں جو بہت اہم ہوتے ہیں اور ان کا انسان کی زندگی یا اپنے خاندان یا ماحول پر یا ہمارے معاشرہ پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔لیکن چونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا اس کو معلوم نہیں ہو تا کہ اس کے فیصلہ کے کیا نتیجے نکلیں گے۔ہمارے نبی صلی نیلم نے جہاں انسانی زندگی کے جملہ مسائل میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے اس مسئلہ کے بارہ میں بھی رہنمائی فرمائی ہے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم ہمیں تمام امور میں اللہ سے خیر مانگنے یعنی استخارہ کی دعا اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورۃ سکھاتے۔جن الفاظ میں حضور صلی ظلم یہ دعا سکھاتے وہ حضرت جابر نے بیان کئے ہیں، حضور صلی الم نے فرمایا: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ جب تم میں سے کوئی کسی (اہم) کام کا ارادہ کرے فلیز گغ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُول تو وہ دور کعتیں نفل ادا کرے اور کہے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ میں تجھ سے تیرے علم سے خیر طلب کر تاہوں وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ اور تیری قدرت سے طاقت طلب کرتا ہوں وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِیمِ اور تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے، میں طاقت نہیں رکھتا وَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اور تو غیب کو جانے والا ہے اللهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى أَوْ قَالَ فِي عَاجِل أَمْرِى وَآجِلِهِ کہ اگر یہ بات میرے دین میں ، میری معیشت میں اور میرے کام کے انجام میں یا فرمایا میرے کام کے جلد