365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 118 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 118

118 درس حدیث نمبر 100 حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیالم کو فرماتے ہوئے سنا: اِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَ نَاراً فَأَمَّا الَّذِى يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَآءُ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَآءُ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ (بخاری کتاب احادیث الانبياء باب ما ذكر من بنى اسرائيل3450) اس حدیث میں ایک زبر دست تنبیہ اور انذار ہے جس کی طرف آج کے مسلمان کو خاص توجہ کی ضرورت ہے ، حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ جب دجال کا ظہور ہو گا تو اس کے پاس دو چیزیں ہوں گی۔پانی ہو گا اور آگ ہو گی۔جس چیز کو وہ آگ کے طور پر دکھا رہا ہو گا وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس چیز کو وہ ٹھنڈے پانی کے طور پر دکھا رہا ہو گا وہ حقیقتا جلانے والی آگ ہو گی۔اس بیان میں ہمارے نبی صلی علی کلم نے دجال کے بظاہر عقائد اور تہذیب و تمدن کو جو بظاہر ٹھنڈا میٹھا پانی نظر آتا ہے جلانے والی آگ سے تشبیہ دی ہے اور جن باتوں کو دجال جلانے والی آگ قرار دیتا ہے وہ حقیقت میں ٹھنڈا میٹھا پانی ہے۔ہمارے نبی صلی اللی کم کی یہ پیشگوئی کتنی صفائی اور وضاحت کے ساتھ پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔مغربی اقوام جو تثلیث کا چولہ پہن کر اسلام پر حملہ آور ہیں بظاہر نظر اپنے خیالات و عقائد و نظریات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں حالانکہ وہ سراسر زہر یلے ہیں اور اسلام کی جس تعلیم کو وہ بھڑکتی ہوئی آگ کے طور پر دکھاتے ہیں، وہ خوشگوار میٹھے پانی کی طرح ہے۔افسوس ہے کہ دنیا پھر کے مسلمان مغربی تہذیب کی رو میں بہتے چلے جارہے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عالم اسلام پر احسان ہے کہ آپ نے دجال اقوام کے مذہبی دھوکہ سے پردہ اٹھایا اور الوہیت مسیح، کفارہ، تثلیث، یسوع کا صلیب پر مر کر زندہ ہونا اور آسمان پر جانا اور آسمان سے واپس آنے کا تصور ان سب پر فریب نظریات کی قلعی کھولی اور کروڑوں مسلمانوں کو اس خطر ناک آگ سے بچایا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ