365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 106 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 106

106 درس حدیث نمبر 89 حضرت ہشام بن حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں نے شام کو کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کو دھوپ میں کھڑا کر کے سزادی جارہی ہے۔میں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ جواب ملا کہ ان لوگوں نے ٹیکس نہیں دیا۔ہشام امیر کے پاس گئے اور اس کو کہا: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ لا يَقُولُ إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا الله (مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق6658) کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی ا ظلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔امیر نے یہ سن کر ان لوگوں کو رہا کر دیا۔آج کی دنیا میں ملزموں سے جھوٹا سچا اقرار جرم کروانے کے لئے ان کو بدنی ٹارچر کر کے اقبال جرم کروایا جاتا ہے یا محض اذیت دینے کے لئے بغیر جرم کے بھی سزا دی جاتی ہے۔جیسا کہ ایک ملک پر ایک عالمی طاقت اس بہانہ سے حملہ کیا کہ اس ملک کے پاس Mass Destruction کے ہتھیار ہیں، وہ ہتھیار تو نہ نکلے مگر وہاں سے بہت سے معصوموں کو پکڑ کر گوانتاناموبے نام جیل بنایا گیا اور اس میں قیدیوں کو شر مناک طریق سے اذیت دی گئی اور یہ وہاں تک محدود نہیں ، دنیا کے قریب ہر ملک میں خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ممالک ہوں یہ ظالمانہ طریق جاری ہے اور ان میں بعض ممالک اپنے آپ کو بہت مہذب ممالک قرار دیتے ہیں اور اسلام کو وحشیوں کا مذہب قرار دیتے ہیں جبکہ ہمارے نبی صلی الیم آج سے پندرہ (15) سو سال پہلے یہ اعلان فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی لوگوں کو اذیت دے گا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں ڈالے گا۔