365 دن (حصہ سوم) — Page 107
107 درس حدیث نمبر 90 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ اللهِ وَدِرْعُهُ مَرْهُوْنَةٌ عِنْدَ يَهُودِي بِثَلَاثِيْنَ صَاعًا مِّنْ شَعِيْرٍ ( بخاری کتاب الجہاد السير باب ما قيل في درع النبي الله لله والقميص في الحرب2916) مغرب میں اسلام پر سب سے زیادہ اعتراض جہاد کے نام سے قتل و غارت کا کیا جاتا ہے اور نعوذ باللہ یہ ناپاک الزام حضور ملی یکم پر کیا جاتا ہے کہ آپ نے لوٹ مار کے لئے ایک ٹولہ جمع کیا اور اس کے ذریعہ قبائل کی لوٹ مار کی۔سوال یہ ہے کہ اگر حضور صلی یکی نے لوٹ مار کی تو لوٹ مار کرنے والے اس لئے لوٹ مار کرتے ہیں کہ اس دولت سے عمدہ کھانے کھائیں، عمدہ لباس پہنیں، عمدہ مکان بنائیں، تنخم کی زندگی گزاریں مگر حضور صلی ا ظلم کے گھر کا یہ عالم ہے کہ دو مہینہ تک کھانا پکانے کے لئے آگ نہیں جلتی۔کھجور اور پانی پر گزارا ہے، لباس ہے تو نہایت سادہ، مکان ہے تو کچا کو ٹھا، لاڈلی بیٹی کے ہاتھ چکی چلا چلا کر زخمی ہو جاتے ہیں۔وہ خواہش کرتی ہے کہ مجھے نوکر رکھ دیں تو ارشاد ہوتا ہے کہ سونے سے پہلے 33 بار سُبْحَانَ اللهِ 33 بار الْحَمْدُ لِلَّهِ 34 بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو تو یہ نوکر سے بہتر ہے۔(بخاری کتاب النفقات باب عمل المرأة في بيت زوجها 5361) بعض لوٹ مار کرنے والے شروع میں تکلیف اٹھاتے ہیں مگر کافی لوٹ مار کے بعد آرام کی زندگی، عیش کی زندگی گزارتے ہیں جو حدیث آج ہم نے پڑھی ہے اس میں گھر کے اندرونہ کا حال واقف کار بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی ایم کی وفات ہوئی اور آپ کی زڑہ (جو دشمن کے سامنے دفاعی ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے) ایک یہودی کے پاس نوے (90) سیر جو کے بدلے رہن رکھی ہوئی ہے۔حضور صلی الی یم کے گھرانے ہیں۔گویا فی گھرانہ صرف 10 سیر جو ہر گھرانہ کو ملتے ہیں۔اور اس کے لئے اپنا دفاعی ہتھیار رہن رکھا ہوا ہے اور وہ رہن بھی ایک ایسے شخص کے پاس رکھا ہوا ہے جو یہودی ہے۔گویا جن کے بارہ میں الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کو قتل و غارت کرنے کے لئے جہاد شروع کیا گیا خود اس قوم کے ایک شخص پر حضور کی زرہ صرف فی گھرانہ دس (10) سیر جو کے لئے گروی ہے۔