365 دن (حصہ سوم) — Page 105
105 درس حدیث نمبر 88 صحیح بخاری میں بڑی تفصیل کے ساتھ حضور علی ایم کے سفر حدیبیہ اور حدیبیہ میں صلح کے واقعات بیان ہیں۔اس میں ایک بات یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قریش مکہ کی طرف سے جو نمائندے باری باری حضور صلی علیم کی خدمت میں صلح کی شرائط طے کرنے کے لئے حاضر ہوئے ، ان میں سے ایک عروة بن مسعود تھا۔جس کو قریش میں ایک بزرگانہ مقام حاصل تھا۔وہ جب حضور صلی ال ایام سے مل کر واپس مکہ گیا اور قریش کو اس نے اپنی رپورٹ دی تو اس رپورٹ میں صحابہ کرام کی حضور صلی یکم سے محبت اور آپ کے لئے فدائیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: آئی قَوْمِ وَاللهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى المُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَى وَالنَّجَاشِي وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَلِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدِي يا الله مُحَمَّدًا ( بخاری کتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع أهل الحرب وكتابة الشروط 2731) کہ اے میری قوم اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس نمائندہ بن کر گیا ہوں۔میں قیصر (شاہ روم) کسری ( شاہ ایران) اور نجاشی ( شاہ حبشہ کے پاس نمائندہ بن کر گیا ہوں۔میں نے کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے ساتھی اس طرح کرتے ہوں جس طرح محمد سلام) کے صحابہ محمد صلی ا یکم کی تعظیم کرتے ہیں۔یہ بیان ایک کافر بلکہ ایک دشمن کا فر کا ہے جو وہ صحابہ کی رسول اللہ صلی الی یکیم کے لئے محبت اور فدائیت کی گواہی دیتا ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض لوگ جو اپنے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔صحابہ کو برا بھلا کہتے اور آپ صلی ال کلم پر فدا ہونے والوں کو آپ کا دشمن قرار دیتے ہیں۔