365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 23 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 23

درس القرآن 23 درس القرآن نمبر 96 ام تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَاسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصْرُى قُلْ وَ انْتُمْ أَعْلَمُ اَمِ اللَّهُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (البقرة:142،141) ان دو آیتوں پر بنی اسرائیل کے سلسلہ نبوت کی تبدیلی پر اعتراض کے مضمون کے جواب کا ایک پہلو پورا ہوتا ہے اور اس مضمون کا دوسرا پہلوجو قبلہ بدلنے سے تعلق رکھتا ہے ان آیتوں کے بعد شروع ہوتا ہے ان دو آیات کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں:۔“اللہ تعالیٰ یہود کا یہ دعوی بیان کرتا ہے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب اور اس کی اولاد بھی یہودی یا مسیحی تھے۔قرآن کریم اس کا ایک سادہ سا جواب دیتا ہے مگر وہ ایسا جواب ہے کہ جس سے اُن پر موت وارد ہو جاتی ہے حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد سے تعلق رکھنے والے افراد توریت اور انجیل کے زمانہ سے بہت پہلے گزر چکے تھے اور توریت جسے وہ الہامی مانتے ہیں۔اس میں اس کا صاف طور پر ذکر آتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دانستہ جھوٹ بولتے ہو اور ان گواہیوں کو چھپاتے ہو جو تورات میں موجود ہیں۔۔۔تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُم مَّا كَسَبْتُم فرماتا ہے یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔تم کیوں اپنی غلطیوں میں ان کو شریک کرتے ہو۔وہ اپنے اعمال کے آپ ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو۔پس اس بات سے کیا فائدہ کہ تم ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے ہو۔تم اپنے ایمان کی فکر کرو۔اُن کا ایمان تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔اور نہ اُن کی نیکیاں تمہاری نجات کا موجب بن سکیں گی۔۔۔۔۔۔ان نبیوں کے اعمال تمہارے کام نہیں آسکتے، نہ مسیح کی تکلیف اُٹھانا تمہاری نجات کا موجب بن سکتا ہے۔تم سے تمہارے اعمال کی نسبت پوچھا جائیگا۔اس لئے تمہیں اپنا فکر کرنا چاہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 220 تا222 مطبوعہ ربوہ)