365 دن (حصہ دوم) — Page 22
درس القرآن درس القرآن نمبر 95 22 مُخْلِصُونَ 191 قُلْ اتحاجونَنَا فِي اللهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ (البقرة: 140) بنی اسرائیل کے اس شکوہ کے جواب میں بہت سے ٹھوس دلائل کے بعد جب کہ یہ مضمون بدل کر قبلہ کے رخ کے بدلنے کا مضمون شروع ہو رہا ہے۔ایک زبر دست نکتہ اس مضمون کے متعلق اس آیت میں پیش فرماتا ہے جس کو حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے عمدہ رنگ میں پیش فرمایا ہے ، فرماتے ہیں:۔“ اس آیت میں کیا ہی لطیف دلیل دی ہے۔فرماتا ہے کہ تمہارا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے ہدایت صرف ہماری قوم میں محدود کر دی ہے اس کو ہم کب مان سکتے ہیں اگر کسی اجنبی شے کے متعلق تم یہ بات کہتے تو تحقیق کی ضرورت بھی ہوتی مگر تم تو خدا کے متعلق یہ بات کہتے ہو جو ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔پھر ہم کس طرح اس بات کو مان لیں کہ بنو اسحاق سے باہر نبی نہیں آسکتا۔اصل سوال تو یہ ہے کہ نبی بھیجا کون کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے تو تم ایسی بات کیوں کہتے ہیں جسے کوئی فطرت صحیحہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔وہ تمہارا بھی رب ہے اور ہمارا بھی۔اگر وہ صرف تمہارا ہی رب ہو تا تو تم کہہ سکتے تھے کہ وہ ہمارے سوا کسی اور سے تعلق نہیں رکھ سکتا مگر جب وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں تو دے دے اور ہمیں چھوڑ دے لَنا أَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ فرماتا ہے کہ دین میں حسد کی بھی کوئی وجہ نہیں کیونکہ کوئی شخص دوسرے کی کمائی نہیں لے سکتا۔ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ کی جزا کا مستحق ہو گا۔تمہارے اعمال تمہارے کام آئیں گے اور جس قوم میں سے یہ نبی آیا ہے اس کے افراد کے اعمال اس کے کام آئیں گے جو شخص جس قدر کوشش کرے گا اسی قدر انعام پائیگا۔کوئی قومی رعایت نہیں ہو گی وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ اور ہم تو اسی سے اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں اس میں بتایا کہ ہماری محبت ایسی نہیں کہ اگر وہ کچھ دے تو ہم اس پر ایمان لائیں۔بلکہ ہمارا تو یہ حال ہے کہ خواہ وہ ہمیں کچھ دے یا نہ دے تب بھی ہم اسی کے لئے وقف ہیں اور اسی کے اطاعت گزار رہیں گے۔اس کے سوا ہمیں کوئی اور چیز مطلوب نہیں۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 220،219 مطبوعہ ربوہ)