365 دن (حصہ دوم) — Page 24
درس القرآن درس القرآن نمبر 97 24 سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (البقرة:143) اسلام کی تعلیم میں روح اور جسم دونوں کو ایک دوسرے پر اثر ڈالنے والا قرار دیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔اسلامی تعلیم میں جہاں باطن پر زور ہے وہاں ظاہر پر بھی زور ہے۔اسلامی کی تعلیم کے ذریعہ جہاں ایک عالمگیر ، زبر دست تبدیلی روحانیت اور عقائد میں کی گئی وہاں اس تبدیلی کا ظاہری سمبل (Symbol)، ظاہری علامت قبلہ کی تبدیلی سے کیا گیا تا کہ ہر ایک کو احساس ہو جائے کہ کوئی زبر دست تبدیلی کی جارہی ہے۔یہ بھی مد نظر رہے کہ بظاہر نظر ان آیات میں بنی اسرائیل کی دو شاخوں یہود اور نصاری مخاطب نظر آتی ہیں جو عالمی اثرات رکھتی ہیں اور ان دونوں سے ہی زیادہ مسلمانوں کی عالمی سطح پر کش مکش ہونے والی تھی مگر ان دونوں مذاہب سے بحث کرتے ہوئے دراصل ہندومت، بدھ مت، زر تشت ازم وغیرہ ماننے والوں کو بھی خطاب ہے کہ اب قبلہ نہ یروشلم ہے ، نہ بنارس، نہ کپل وستو، نہ کوہ سبلان۔فرماتا ہے کہ نادان لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر وہ تھے۔کوئی یروشلم کو قبلہ بنائے بیٹھا تھا، کوئی بنارس کو ، کوئی کپل وستو کو، کوئی سبلان کے پہاڑ کو۔فرماتا ہے تم کہو کہ یہ فیصلہ کرنا کہ مشرق کی طرف رُخ کیا جائے یا مغرب کی طرف، یہ زید ، بکر کا کام نہیں، یہ تو محض اللہ کا کام ہے۔سیدھا راستہ کون سا ہے اس کا فیصلہ کرنا اور پھر اس کی طرف رہنمائی کر ناخد اتعالیٰ کا کام ہے۔