365 دن (حصہ دوم) — Page 14
درس القرآن 14 درس القرآن نمبر 89 رووو وَوَلّى بِهَا إبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِى إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَ ވ މ وور روووو الا وانتُم مُّسْلِمُونَ أم كُنتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِى قَالُوا نَعْبُدُ الهَكَ وَالهَ بَابِكَ إبراهيمَ وَإِسْعِيلَ وَإِسْحَقَ الهَا وَاحِدًا وَ نَحْنُ (البقرة:134،133) لَهُ مُسْلِمُونَ بنی اسرائیل کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے گویا جوابی حملہ کرتے ہوئے اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے کہ ابراہیم نے نہ صرف خدا تعالیٰ کے حکم پر اپنا تمام وجو د سونپ دیا اپنی تمام طاقتیں، صلاحیتیں ، استعدادیں خدا کی راہ میں لگا دیں، بلکہ اپنی اولاد کو بھی یہی وصیت کی۔اس لئے اگر بنی اسرائیل اپنے آپ کو سلسلہ نبوت کا حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ ابراہیم کی وصیت پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا وہ اسلام لائے ہیں جس کے معنے ہیں اپنے آپ کو اور اپناسب کچھ خدا کو سونپ دینا اور پھر صرف حضرت ابراہیم نہیں بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب ہے اور حضرت یعقوب نے بھی حضرت ابراہیم کی طرح اپنی اولاد کو یہی وصیت کی تھی کہ اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یقیناً دین کو چن لیا ہے اس لئے تم نے مرنا نہیں مگر اسلام کی حالت میں جب کہ تم نے اپنے وجود کو پوری طرح خدا کو سونپ دیا ہو ام كُنتُم شُهَدَاء کیا تم اس وقت موجود تھے اِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ جب یعقوب پر موت آئی إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ جب اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی وہ کیا ہے جس کی تم میرے بعد عبادت کرو گے ؟ قَالُوا نَعْبُدُ الهَكَ وَإِلَهَ بَابِكَ اِبْراهِيمَ وَإِسْمعِيلَ وَإِسْحَقَ الهَا وَاحِدًا انہوں نے کہا ہم عبادت کرتے رہیں گے تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا کے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے۔وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ اور ہم اس کو اپنا سب کچھ سونپنے والے ہیں۔ان آیات میں زور دار الفاظ میں یہ مضمون بیان کیا ہے کہ جب تک بنی اسرائیل ایک خدا کو اپنا سب کچھ سونپ نہیں دیتے یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ ابراہیم و اسرائیل کی نسل ہونے کی وجہ سے روحانی انعامات کے وارث ہیں۔