365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 13 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 13

درس القرآن 13 درس القرآن نمبر 88 وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَ لَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة: 131 132) جس طرح ایک حق اور صداقت پر قائم فوج کسی ظالم فوج کے حملہ کو روکتی ہے دفاع کرتی ہے پھر دفاع کرنے کے بعد اور دشمن کے حملے کو روکنے کے بعد جوابی حملہ کرتی ہے اور دشمن کے علاقہ کی طرف پیش قدمی کرتی ہے اسی طرح قرآن شریف میں پہلے بنی اسرائیل کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ ابراہیمی وعدوں کے وارث بنی اسرئیل تھے اب ان آیات کے ساتھ ان کے اعتراضات کے مقابلہ میں جوابی حملہ کا مضمون شروع ہوتا ہے ، فرماتا ہے۔اور کون ابراہیم کی ملت سے اعراض کرتا ہے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو بے وقوف بنایا۔نادانی اور جہالت سے کام لیا کیونکہ تم بھی مانتے ہو وَ لَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو دنیا میں بھی چن لیا اور ہم مسلمان بھی یہ مانتے ہیں کہ وہ آخرت میں صالح لوگوں میں سے ہو گا اور خیر و برکت یاد نیا کی ہے یا آخرت کی ہے۔ہم دونوں فریقوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ابراہیم کو دنیا میں خیر و برکت حاصل تھی اور آخرت میں بھی وہ خیر و برکت کا وارث ہو گا اب دیکھو کہ ابراہیم کی ملت پر کون عمل کر رہا ہے اس کے لئے پہلے دیکھو کہ ابراہیم کی ملت کیا تھی، ابراہیم کا طریق عمل کیا تھا، ابراہیم کا طریق عمل یہ تھا اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّة اسلم جب اس کے رب نے اس کو کہا اسلام لے آ۔جس کے معنے ہیں کہ اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کو اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دے اور اپنی گردن فرمانبر داری کے لئے رکھ دے، اپنی خواہش، اپنا ارادہ کچھ باقی نہ رہے۔اب بتاؤ کہ کیا تم ابراہیم کے طریق پر اس پر عمل کر رہے ہو ، یا تم اپنے ارادوں، اپنی خواہشوں، اپنے ملکی رسم و رواج، قومی عادات اور شعائر کو مقدم کر رہے ہو اور الہی قوانین اور فرمانوں کی اتنی پرواہ بھی نہیں کرتے کہ رسم و رواج یا سوسائٹی اور برادری کے اصولوں پر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو مقدم کر لو تو پھر تم ابراہیمی ملت پر عمل نہیں کر رہے اور اگر ایسا ہے تو پھر تمہارا یہ دعویٰ کہ تم ابراہیم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ابراہیمی وعدوں کے وارث ہو ، بالکل غلط ہے۔