365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 15 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 15

درس القرآن 15 درس القرآن نمبر 90 تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (البقرة: 135) اس آیت میں بنی اسرائیل کے اس دعوی کا بڑا اصولی اور حکیمانہ جواب دیا ہے کہ ہم ابراہیم اور یعقوب کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان وعدوں کے وارث ہیں جو ان سے کئے گئے تھے اور سلسلہ نبوت صرف بنی اسرائیل میں جاری رہے گا، بنی اسماعیل میں نہیں جائے گا۔یہ آیت اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہر شخص اپنے کاموں کا پھل پائے گا۔یہ امت حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب وہ تمام نبی جو بنی اسرائیل میں آئے ان کو ان کے کاموں کے پھل ملے اور اگلے جہان میں ملیں گے اور تمہارے لئے وہی ہے جو تم کماتے ہو۔ان لوگوں کی نیکیاں تمہارے کام نہیں آئیں گی وَ لا تُسْتَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ اگر تم ان کی نیکیوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر مصر ہو تو کیا ان کے اعمال کی جواب دہی تم سے کی جائے ؟ ظاہر ہے کہ تم ان لوگوں کے اعمال کے بارہ میں نہ پوچھے جاؤ گے جو انہوں نے کئے پھر تم ان کی نیکیاں اپنے کھاتہ میں کس طرح ڈال سکتے ہو۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔“ عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کے اعمال ہمارے کام آجائیں گے اگر وہ نیک اور پار سا تھے تو ہم بھی اُن کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہی کے ساتھ جگہ پائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس خیال کی تردید فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے اعمال اُن کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ۔تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیسے اعمال کرتے تھے۔بلکہ یہ سوال ہو گا کہ تم کیا کرتے رہے۔اگر یہ سوال ہونا ہو تا کہ تمہارے باپ دادوں نے کیا کیا تھا تو شاید تم بچ جاتے مگر سوال تو یہ ہو گا کہ تم نے کیا کیا ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 207 مطبوعہ ربوہ)