365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 68 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 68

درس القرآن 68 درس القرآن نمبر 129 أحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَا بِكُم هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمُ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى الَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَاَنْتُمْ عَكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (البقرة : 188) قرآن شریف کا ایک طریق یہ ہے کہ کسی حکم یا مسئلہ کے بیان پر اگر کوئی اعتراض پیدا ہو تو بغیر اس اعتراض کا واضح ذکر کرنے کے اس کا جواب دے دیتا ہے۔رمضان سے پہلے کھانا پینا، قصاص اور وصیت کے مضامین کا ایک پہلو یہ تھا کہ انسانی زندگی اور جان کی حفاظت کے لئے قوانین بنائے جائیں۔اس مضمون کے بعد رمضان میں کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات کی پابندیوں کی وجہ سے یہ اعتراض پیدا ہو سکتا تھا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے انسانی جان کے تحفظ اور نوع انسان کی بقاء خطرہ میں تو نہیں پڑے گی اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف دن کے وقت ہیں رات کو ازدواجی تعلقات کی بھی اجازت ہے اور کھانے پینے کی بھی اجازت ہے، فرماتا ہے تمہارے لئے روزہ رکھنے کی رات میں اپنی بیویوں سے تعلقات جائز قرار دیئے گئے ہیں۔هُنَّ لِبَاسٌ تَكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو اس لئے جس طرح لباس سردی گرمی وغیرہ سے بچاؤ اور آرام کا ذریعہ بنتا ہے تمہیں بھی ایک دوسرے کے لئے بچاؤ اور آرام کا ذریعہ بننا چاہیئے اور جس طرح لباس زینت کا باعث ہے تمہیں بھی ایک دوسرے کے لئے زینت کا باعث ہونا چاہیئے اور جس طرح لباس پر دہ پوشی کرتا ہے تمہیں بھی ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم اپنے آپ کی اور اپنوں کی حق تلفی کرتے رہے ہو پس وہ تم پر رحمت کے ساتھ جھکا اور تم سے در گزر کی، اب ان سے ازدواجی تعلقات قائم کر سکتے ہو اور جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے اس کی طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے اور تم ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرو جب کہ تم مساجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہو۔یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان کے قریب بھی نہ جاؤ اس طرح اللہ اپنی آیات کو لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔