365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 69 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 69

درس القرآن 69 القرآن نمبر 130 وَلا تَأكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْ نُوا بِهَا إِلَى الْحُكَامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ (البقرة:189) النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت اور روزوں کے مسائل اور ان کی حکمتوں کو اس آیت پر ختم کیا ہے جو ایک نہایت اہم ، نہایت ضروری اور نہایت بابرکت اور مفید بات پر مشتمل ہے۔اور وہ یہ کہ رمضان کے روزوں کے ذریعہ تمہیں یہ ٹریننگ دی گئی ہے کہ وہ چیزیں جو تمہارے لئے حلال بلکہ تمہاری زندگی کے لئے بنیادی طور پر ضروری ہیں ان کو بھی چھوڑ دو تو پھر کتنا بڑا گناہ ہو گا اگر تم ایک دوسرے کے مال ناجائز طریق سے کھاؤ۔گویا یہ آیت رمضان کے روزوں کے مسائل کا لازمی جزو ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر مت کھایا کرو اور نہ اپنے مال کو رشوت کے طور پر حکام تک پہنچایا کرو۔تا اس طرح پر حکام کی اعانت سے دوسرے کے مالوں کو اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 347) دبالو۔” وو 66 حضرت مصلح موعود اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:۔مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ مت کھاؤ۔انسان دوسرے کا مال کئی طرح کھاتا ہے۔اوّل جھوٹ بول کر۔دوم نا جائز ذرائع سے چھین کر۔سوم سود کے ذریعہ سے۔چہارم رشوت لے کر۔یہ سب امور باطل میں داخل ہیں۔وَتُدُ نُوا بِهَا إِلَى الْحُكَامِ میں بتایا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کا مال کھانانا جائز ہے۔اسی طرح تم حکام کو بھی روپیہ کا لالچ نہ دو تا کہ اس ذریعہ سے تم دوسرے کا مال کھا سکو۔اس آیت میں افسران بالا کو رشوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور اُسے حرام اور ناجائز قرار دیا گیا۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اپنے مالوں کو حکام کے پاس نہ لے جاؤ تا کہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ تم گناہ کے ذریعہ کھا جاؤ یعنی ان کے متعلق جھوٹے مقدمات دائر نہ کرو۔اور یہ نہ سمجھو کہ اگر حاکم انصاف کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے تمہیں کسی کا حق دلا دے گا تو وہ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 415 مطبوعہ ربوہ) تمہارے لئے جائز ہو جائیگا۔"