365 دن (حصہ دوم) — Page 21
درس القرآن 21 درس القرآن نمبر 94 صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةَ وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقرة:138) اس مضمون کو ختم کرنے کے سے پہلے کہ بنی اسرائیل اعتراض کرتے ہیں کہ ان سے سلسلہ نبوت کس طرح سے لے لیا گیا اور بنی اسماعیل میں منتقل ہو گیا اب ایک نصیحت دونوں قوموں کو اس آیت میں کی گئی ہے جو دونوں قوموں کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔بنی اسرائیل کو تو کہا گیا ہے کہ تم چاہتے ہو کہ بپتسمہ لے کر تمہاری ملت تمہارا مذہب اختیار کیا جائے۔مگر اصل بپتسمہ تو وہ ہے جو صِبْغَةَ الله ہے۔تم اس بپتسمہ کو اختیار کر وجو اللہ کا بپتسمہ ہے ، جو طریق اللہ نے رسول اکرم صلی علیم کو بھیج کر اور قرآن مجید کو نازل کر کے اصطباغ یعنی بپتسمہ کا بتایا ہے اور اس سے زیادہ خوبصورت بپتسمہ کون سا ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سکھائے، ساتھ ہی مسلمانوں کو بلکہ ساری دنیا کو یہ تعلیم دی ہے کہ نیکی نام ہے اللہ کارنگ اختیار کرنے کا۔اللہ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کا۔اللہ کے اسماء حسنیٰ کا نقش اپنے اندر اتارنے کا۔وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةَ اور اللہ سے زیادہ خوبصورت اور کس کی صفات ہیں۔بنیادی مقصد جو تخلیق کا ہے وہ عبادت کا ہے جیسا کہ اس بحث سے پہلے قرآن کے نزول کے بنیادی مقصد کے طور پر بیان کیا گیا تھا اور یہ مقصد حاصل ہو ہی نہیں سکتا جب تک اللہ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر نہ چڑھایا جائے۔یہ ہے عبادت کہ انسان خدا کی گویا نقل کرے۔اگر خدا علیم ہے تو وہ بھی علم حاصل کرے۔اگر خدا رحمان ہے ، رحیم ہے، تو وہ بھی رحم کرے۔اگر خدا حکیم ہے تو وہ بھی حکمت سے کام کرے۔غرض ہم مسلمان جو خدا کی صفات اپنے اندر پیدا کرتے ہیں و نَحْنُ لَهُ عبدون ہم ہی اس کی عبادت کرنے والے ہیں۔