365 دن (حصہ دوم) — Page 20
درس القرآن 20 درس القرآن نمبر 93 فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا أَمَنْتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَاهُمْ فِي شِقَاقٍ 99119 فَسَيَكفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة:138) گزشتہ سے پچھلی آیت میں یہود اور نصاریٰ کا یہ دعویٰ بیان کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو کہتے ہیں سچائی کو سمجھنا ہے اور ماننا ہے تو یہودی یا عیسائی بن کر دیکھو جس طرح انگریزی میں کہتے ہیں پڈنگ کا مزہ اس کے کھانے میں ہے۔اگر یہودی یا عیسائی ہو گے تو تمہیں صداقت کا صحیح مزہ کا پتہ لگے گا۔پچھلی آیت میں اس آیت کا ایک ٹھوس جو اب مسلمانوں کی زبانی ان کو دیا گیا تھا کہ ان لو کہہ کہ ہم اللہ پر ایمان لا کر جس پر ایمان لانا دراصل تمام صداقتوں کی جڑھ ہے اس کلام پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ابراہیم پر اتارا گیا، جو اسماعیل، اسحاق ، یعقوب اور ان کی اولا د پر اتارا گیا۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ اور عیسی اور تمام نبیوں کو دیا گیا۔ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔اس لئے تمہارا یہ کہنا ہی کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سمجھ آئے گی مضحکہ خیز بات ہے۔صحیح معنوں میں تو یہودی اور عیسائی ہم ہی ہیں اور پھر ہم نے اپنا سارا وجود ، اپنی ساری صلاحیتیں اور استعدادیں اپنی جان، مال اور اولاد، اپنا سب کچھ خدا کے سپر د کر دیا ہے تو پھر حقیقی یہودی و عیسائی کون ہوا؟ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تم ہم پر اعتراض کرتے ہو کہ تم نے جھگڑا اور شقاق پیدا کر دیا ہے، ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنالی ہے۔شقاق تو تم پیدا کر رہے ہو۔مسلمانو! ان یہود و نصاری کو کہہ دو کہ اگر تم ہماری طرح ایمان لاؤ جو صرف اپنے پر اترنے والے کلام پر ایمان نہیں لاتے بلکہ ابراہیم ، اسماعیل، اسحاق، یعقوب ان کی اولاد پر اترنے والے کلام پر ایمان ہیں۔ہم جو کچھ موسیٰ عیسی اور سب نبیوں کو دیا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں ہم لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، فرق تو تم کرتے ہو شقاق تو تم پیدا کرتے ہو الزام ہمیں دیتے ہو فَسَيَكفِيكَهُمُ اللهُ اتنی صاف واضح صداقت سے تم انکار کر رہے ہو۔یہ اللہ ہی سے نپٹے گا وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اور خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔وو