365 دن (حصہ دوم) — Page 5
درس القرآن درس القرآن نمبر 82 يبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدُكَ وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ 159179 يُنصَرُونَ (البقرة: 124،123) جیسا کہ گزشتہ درس میں ذکر ہوا تھا اب بنی اسرائیل کے بارہ میں مضمون کا رنگ بدل رہا ہے اور یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے نبوت کا انتقال بنی اسماعیل کی طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان سے کئے گئے وعدوں کے خلاف نہیں بلکہ اس کے مطابق ہے۔مضمون کی تبدیلی کا اشارہ ان الفاظ کے دہرانے سے بھی ملتا ہے يُبَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكم کہ اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی ہے۔یہ الفاظ بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کے مضمون کے شروع میں بھی 9 آیت 41 میں تھے اور اب اس مضمون کا رنگ بدلنے پر آیت 123 میں بھی ہیں۔فرماتا ہے۔یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ تمام جہانوں میں تمہیں ایک فضیلت کا مقام دیا وَ اتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص قطعاً کسی دوسرے شخص کا قائمقام نہ ہو سکے گا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدل اور نہ اس سے کسی قسم کا معاوضہ قبول کیا جائے گا وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةُ اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ دے گی وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ اور نہ ان ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔اس آیت کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں اس لئے بخشے جائیں گے یا اس لئے کہ ان پر روحانی انعامات کا سلسلہ بند نہیں ہو سکتا، غلط فہمی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔حقیقت یہ ہے کہ جب قومیں اپنے تنزل کے دور میں اعمال صالحہ کی بجا آوری میں کمزور ہو جاتی ہیں تو وہ شفاعت انبیاء پر زور دینے لگ جاتی ہیں۔۔۔جوں جوں انبیاء سے بُعد ہوتا جاتا ہے لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم اپنے نبیوں کی شفاعت سے جنت میں چلے جائیں