365 دن (حصہ دوم) — Page 4
درس القرآن درس القرآن نمبر 81 وَ لَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصْرَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدى وَلَبِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرِ الَّذِينَ اتَيْنُهُمُ الْكِتَبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِه أوليكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرُ بِهِ فَأُولَبِكَ (البقرة:122،121) هُمُ الْخَسِرُونَ ان دو آیات پر بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کا مضمون (جس کی ایک بنیادی غرض یہ بتانا تھی کہ بنی اسرائیل سے نبوت کیوں بنی اسماعیل کی طرف منتقل کی گئی) تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور یہود اور نصاری سے کش مکش کا مضمون نئے رنگ میں شروع ہو رہا ہے جس کا ذکر اگلی آیات میں آئے گا۔ان آیات میں فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ ہر گز تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک ان کی ملت کی پیروی نہ کرے۔حالانکہ یہ سیدھی سادی موٹی عقل کی بات ہے ان هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی کہ سچی حقیقی ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے ہدایت ہو، اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر انسانوں کی رہنمائی میں چلنا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟ اب اے مسلمان اگر تم ان کی کھو کھلی خواہشات کی پیروی کرو بعد اس کے کہ ایک عظیم الشان علم تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آچکا ہے تو پھر نہ تو اللہ کی طرف سے تمہارا کوئی دوست ہو گا، نہ کوئی مددگار۔وہ عظیم الشان علم جو ہم نے تم کو دیا ہے وہ قرآن کی شکل میں الَّذِینَ آتَيْنَهُمُ الكتب وہ لوگ جن کو ہم نے یہ کامل کتاب دی ہے يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِه وہ اس کو پڑھتے بھی اس طرح ہیں جو اس کے پڑھنے کا حق ہے اور اس کی ہدایات و تعلیمات کی اس طرح پیروی کرتے ہیں جو اس کی پیروی کا حق ہے اُولبِكَ يُؤْمِنُونَ بِہ یہ لوگ ہیں جو حقیقتاً اس کو مانتے ہیں محض لفظ ماننے کا دعویٰ کرنا کافی نہیں وَمَنْ يَكْفُرُ بِہ اور جو اس کا انکار کرتا ہے فَأُولَيكَ هُمُ الْخَسِرُونَ تو حقیقتا وہ لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ؟