365 دن (حصہ دوم) — Page 116
درس حدیث درس حدیث نمبر 46 116 حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی ا یکم ایک مجلس میں کچھ بیان فرمارہے تھے کہ ایک بدوی آیا اور اس نے پوچھا کہ وہ گھڑی یعنی قیامت کی گھڑی یا تباہی کی گھڑی کب آئے گی۔رسول اللہ صلی علی یکم جو بیان فرمارہے تھے وہ بیان فرماتے چلے گئے اور جب فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ اس گھڑی کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے۔اس نے یا رسول اللہ میں یہ حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا: إِذَا ضَيَّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ كہ جب امانت ضائع کر دی جائے تو تم اس گھڑی کے منتظر رہنا۔اس بدوی نے پوچھا كَيْفَ إِضَاعَتُهَا کہ امانت کو ضائع کرنا کیسے ہو گا؟ آپ نے جواب میں فرمایا: إِذَا أَسْنِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ كہ جب انتظام ان لوگوں کے سپر د کیا جائے جو اس کے اہل نہ ہوں تو اس گھڑی کا انتظار کرنا۔(بخاری کتاب الرقاق باب رفع الامانة حديث نمبر 6496) ہمارے نبی صلی علی یم نے نو (9) الفاظ پر مشتمل اس فقرہ میں حکمت و دانائی اور قومی ترقی کا ایک ایسا راز بتایا ہے جو سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل اور موتیوں میں تولے جانے کے لائق ہے۔جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے امانت سے مراد انتظام اور حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہمارے نبی صلی ال ایام فرماتے ہیں کہ جب حکومت کی ذمہ داریاں اور انتظامات کے فرائض ایسے لوگوں کے سپر د کئے جائیں جو ان کاموں کو نہیں سنبھال سکتے تو سمجھو کہ خرابی اور تباہی کی گھڑی آگئی۔ہم لوگ جو اپنی جماعت میں جماعتی کارکنوں کا یا ذیلی تنظیموں کے کارکنوں کا انتخاب کرتے ہیں ایک بہت بڑا سبق ہے۔