365 دن (حصہ دوم) — Page 115
درس حدیث درس حدیث نمبر 45 115 ہمارے نبی صلی اللی کمر پر جب پہلی قرآنی وحی نازل ہوئی اور آپ کو دنیا کی سب سے بڑی ذمہ واری سونپی گئی اور تمام دنیا کے لئے ، دنیا کی تمام قوموں کے لئے ہر سفید وسیاہ کے لئے آپ کو ہادی بنا کر بھیجا گیا تو چونکہ یہ بہت ہی عظیم اور بہت ہی مشکل ذمہ واری تھی اس لئے طبعا آپ صلی اللہ کریم کی طبیعت میں فکر پیدا ہوئی کہ یہ عظیم الشان کام جس کی ذمہ واری آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے کس طرح سر انجام دیا جائے گا اور اس فکر میں آپ غار حر اسے اپنے گھر تشریف لائے اور اپنی بہت بصیرت رکھنے والی زوجہ مطہرہ سے اس کا ذکر فرمایا کہ مجھے تو اپنی جان کا خوف ہے۔حضرت خدیجہ نے آپ کی عظیم الشان اخلاقی قوتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہ آپ بالکل فکر نہ کریں انہوں نے کہا: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ أَبَدًا ہر گز آپ ناکام نہیں ہونگے مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا اللہ کبھی آپ کے بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں وَتَحْمِلُ الْكَلَّ تھکے ماندے خستہ حال کا بوجھ اٹھاتے ہیں وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُوم آپ وہ نیکیاں کماتے ہیں جو دنیا سے مٹ چکی ہیں وَ تَقدِی الضَّیف آپ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ اور حادثات زمانہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔( بخاری کتاب بدء الوحی باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلی اللہ حدیث نمبر (3) یہ وہ عظیم نذرانہ ہے جو ایک عظیم بیوی نے اپنے عظیم خاوند کے حضور پیش کیا۔اور یہ ایک ثبوت ہے ہمارے نبی صلی الی یوم کے اخلاق فاضلہ کا جو ایک ایسی ہستی نے دیا جس نے صبح اور شام دن اور رات سفر اور حضر میں آپ کو نہایت قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔