365 دن (حصہ دوم) — Page 117
درس حدیث 117 درس حدیث نمبر 47 حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علم کو فرماتے ہوئے سنا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابٍ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُوْلُ ذُلِكَ يُبْقِى مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالُوا لَا يُبْقِى مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَالِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ( بخاری کتاب مواقيت الصلوۃ باب الصلوات الخمس كفارة حديث نمبر 528) رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا: بتاؤ تو سہی اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر ایک نہر بہتی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ بار نہائے تو کیا یہ بات اس کی کوئی میل باقی رہنے دے گی۔لوگوں نے عرض کیا۔اس کی کوئی میل باقی نہ رہنے دے گی۔آپ نے فرمایا۔یہ ہے مثال پانچ نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ غلطیوں کو مٹاڈالتا ہے۔اس مبارک حدیث میں ہمارے نبی صلی الی یکم نے ہم گناہگاروں کے گناہوں سے بچنے اور ان کی سزا سے بچنے کے لئے کیا لطیف طریق اختیار فرمایا ہے اور ایسی تشبیہ دی ہے جو خوب اس مضمون کو واضح کرتی ہے اور دل پر اثر ڈالتی ہے کہ ہمارے رحم کرنے والے اللہ نے گناہوں کو مٹانے کا عجیب طریق بیان فرمایا ہے۔انسان گناہ کرتا ہے کبھی زبان سے کبھی ہاتھ سے کبھی اپنے گھر میں کبھی اپنے ہمسایہ کے ساتھ کبھی بازار میں۔مگر دن میں پانچ مرتبہ اللہ نے ہمارے گناہوں کو معاف کرنے کا اور ان کا نام و نشان مٹانے کا سامان فرما دیا۔اور ہمارے پیارے اور محسن نبی صلی اللہ ولیم نے بڑے موثر انداز میں اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے ہمیں اطلاع فرمائی ہے۔