365 دن (حصہ اول) — Page 56
درس القرآن 56 درس القرآن نمبر 46 وَ إِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبُ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أَنَاسِ مَشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (البقرة:61) بنی اسرائیل کے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے کیوں بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسماعیل میں نبوت کا سلسلہ شروع کیا اور آنحضرت صلی علی کلم کو نبی بنا کر بھیجا گیا بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور سرکشیوں اور خدا تعالیٰ کی مسلسل نعمتوں کی ناقدریوں کا تفصیلی بیان جاری ہے کہ ہر موقع پر خدا تعالیٰ نے تم پر احسان کئے۔تمہیں ساری دنیا میں فضیلت کا مقام دیا اور تمہاری تربیت اور تمہیں جفاکشی کی زندگی کا سبق دینے کے لئے جب تمہیں صحرائی زندگی کی ہدایت کی اس وقت بھی تمہارے لئے بغیر کسی خاص محنت اور کوشش کے تمہارے لئے کھانے کا بھی انتظام کیا۔چنانچہ وَ اِذِ اسْتَسْقَى مُوسى لِقَوْمِهِ کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا فقلنا اضْرِبُ بَعَصَاكَ الْحَجَرَ کہ چٹان پر اپنے عصا سے ضرب لگاؤ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا تب اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے قَدْ عَلِمَ كُلُّ أَنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ اور سب لوگوں نے اپنے پانی حاصل کرنے کی جگہ معلوم کر لی كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللہ تو اللہ کے رزق سے کھاؤ اور پیو وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِین اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو کہ کسی ناجائز طریق سے بے گانہ مال پر قبضہ کریں۔