365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 55 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 55

درس القرآن 55 درس القرآن نمبر 45 وَاذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُم رَغَدًا وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَ قُولُوا حِطَةٌ تَغْفِرُ لَكُمْ خَطيكُمْ وَ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيْلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجَزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (البقرة: 59،60) بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے جو احسانات تھے اور بنی اسرائیل نے ان احسانات کی جو ناشکری کی اور سرکشی سے کام لیتے رہے اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ صحرائی زندگی میں ان کو وقتاً فوقتاً شہروں میں جاکر کھانے پینے کی چیزیں حاصل کر سکتے ہو مگر اخلاق اور دعاؤں پر زور دیتے ہوئے مگر بنی اسرائیل اس معاملہ میں سرکشی اور ناشکری کا اظہار کیا، فرماتا ہے۔اس وقت کو یاد رکھو جب ہم نے کہا اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور اس میں سے جہاں بھی مناسب سمجھو با فراغت کھاؤ۔وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا مگر فرمانبرداری کی حالت میں شہر میں داخل ہو اور ایسے اخلاق دکھاؤ جو ایک نبی کی امت کے مناسب حال ہوں تا ان لوگوں پر برا اثر نہ پڑے۔وَقُولُوا حظة اور اپنی کمزوریوں کی معافی کے لئے دعائیں کرتے رہو تا کہ شہری زندگی کے غلط اثرات تم پر نہ پڑیں نَغْفِرُ لَكُمْ خَطیكُمْ ہم تمہاری خطاؤں کو معاف کر دیں گے وَ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِینَ اور صرف سابقہ گناہوں کی معافی ہی نہیں بلکہ ہم محسنوں کو ضرور بڑھائیں گے اور ان کو زیادہ دیں گے یعنی تمہارے دل میں گناہ کے مقابلہ کی ہی طاقت نہیں پیدا ہو جائے گی بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکیوں کی قدرت بھی تم کو حاصل ہو جائے گی۔فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمُ پس ان لوگوں نے اس بات کو جو انہیں کہی گئی تھی بالکل بدل دیا فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِ جُنَّا مِنَ السَّمَاءِ پس ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے ایک عذاب نازل کیا بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔