365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 34 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 34

درس القرآن رس القرآن نمبر 29 ووروور ترجعون و 34 كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللهِ وَ كُنتُمْ اَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُم ثُمَّ يُحْيِيكُم ثُمَّ إِلَيْهِ (البقرة:29) اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد کہ چونکہ عبادت سب سے ضروری اور بنیادی حکم ہے تم اے سب لوگو ! عبادت کرو اور اگر اس بارہ میں تمہیں کوئی شک ہے تو اس سے بہتر تعلیم نے آؤ اور یاد رکھو کہ اس سے بہتر تعلیم ہر گز نہیں لا سکو گے تو پھر اس سے انکار کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر نکالو کیونکہ اس تعلیم کا انکار کرنے والے سزا پائیں گے اور ماننے والے بشر طیکہ وہ اس کے مطابق عمل کریں اپنے اعمال کے پھل کھائیں گے۔اس مضمون کے بعد یہ فرماتا ہے کہ تم اللہ کا انکار کس طرح کر سکتے ہو ، تمہاری زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں نہیں اگر تمہارا پید اہونا، تمہارا مرنا تمہارے اپنے اختیار میں ہو تا یاکسی اور انسان یاد نیا کی کسی چیز کے ہاتھ میں ہو تا تو پھر تم اللہ کا انکار کرتے ٹھیک بھی لگتے ہو۔مگر نہ تمہارا پیداہونا تمہارے ہاتھ میں، اختیار میں نہ تمہارا مرنا تمہارے اختیار میں ہے۔ایک خاندان میں دس لڑکے پیدا ہو جاتے ہیں ایک خاندان والے ایک لڑکے کے لئے ترستے ہیں۔ایک آدمی 95 سال کی عمر کا ہو کر مرنا چاہتا ہے ، مرتا نہیں۔دوسرا دو دن پیدائش کے بعد مر جاتا ہے۔نہ تم کسی کو پیدا کر سکتے ہو نہ کسی کی عمر بڑھا سکتے یا گھٹا سکتے ہو۔پھر کس منہ سے اللہ کا انکار کرتے ہو ؟ گیف تَكْفُرُونَ بِاللهِ تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو وَ كُنتُم اَمْوَانًا تم مردہ تھے وَأَحْيَاكُمُ اس نے تمہیں زندہ کیا تحریمیتکم پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر اگر معاملہ یہاں ہی ختم ہو جاتا تو پھر بھی خیر تھی ثُمَّ يُحْبيكُم پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا ثُمَّ الَیهِ تُرْجَعُونَ اور تم اس کی طرف وو و لوٹائے جاؤ گے۔اب تو گویا تمہارے لئے اللہ کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔