365 دن (حصہ اول) — Page 35
درس القرآن 35 درس القرآن نمبر 30 هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَبِهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة :30) پچھلی آیت میں یہ مضمون تھا کہ تم اللہ کا اور اس کی عبادت کرنے کے حکم کا کس طرح انکار کر سکتے ہو جب کہ تمہاری اپنی زندگی اور موت بھی تمہارے اختیار میں نہیں۔اللہ نے تمہیں پیدا کیا، اللہ ہی تمہیں موت دے گا۔نہ تمہارا پید اہو نا تمہارے اختیار میں ہے نہ تمہارا مرنا تمہارے اختیار میں ہے اور پھر مرنے کے بعد تم نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے تو پھر اللہ کے انکار کی کیا گنجائش ہے اور اس کی عبادت سے کیوں بھاگتے ہو۔اس آیت میں اس مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے کہ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا في الْأَرْضِ جَمِيعًا کہ یہ زمین جس میں تم رہتے ہو ، جس میں تمہارے فائدہ کے سب سامان ہیں یہ بھی تو تم نے نہیں بنائی۔وہی اللہ ہے جس نے زمین میں جو سب کچھ ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَنهُنَّ سَبْعَ سبوت وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنائے۔وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِیم اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، فرماتا ہے۔اب جس نے تمہارے فائدہ کے لئے اتنی بڑی زمین اور سب فائدے کی چیزیں جو اس میں ہیں تمہارے لئے بنائے اور سات درجوں میں تمہارے اوپر بلندیاں بنائی ہیں اور سب فائدے کے لئے ہیں، تمہارے کام آتی ہیں، کیا تم اس کی عبادت سے انکار کرتے ہو، اس کی ہستی سے انکار کرتے ہو۔یہ نہ سمجھو کہ اس کو تمہاری ان باتوں کا علم نہیں ، اتنی بڑی زمین اور اس کے سامان ، اتنی بڑی بلندیاں مکمل شکل میں بنائیں۔کیا وہ بھی نہ جاننے والا ہو سکتا ہے۔اگر وہ جانے والا ہے تو تم اس کی عبادت سے کس طرح انکار کی جرات کرتے ہو۔