365 دن (حصہ اول) — Page 33
درس القرآن 33 درس القرآن نمبر 28 الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ ( البقرة : 28) اس آیت میں ایک ایسے اعتراض کا جواب ہے جو بڑی کثرت سے مغرب میں اسلام اور قرآن شریف پر کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رضی اللہ عنہ جب دوسری دفعہ سپین تشریف لائے اور بیت بشارت کے سامنے کے صحن میں کئی ہزار غیر مسلموں کے سامنے آپ نے ان کے سوالات کے جواب دیئے تو پہلا اعتراض جو کیا گیاوہ یہ تھا کہ قرآن میں لکھا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا کہ اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعہ بہت لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بہت لوگوں کو ہدایت دیتا ہے تو اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب اللہ خود ہی گمراہ کرتا ہے تو پھر لوگوں کا کیا قصور ہے اور ان کو کس بات کی سزا ملتی ہے۔یہ الفاظ يُضِلُّ بِه كَثِیراً کہ اس کے ذریعہ بہت لوگوں کو گمراہ کرتا ہے یازیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ گمراہ ٹھہراتا ہے آج کی آیت سے پہلی آیت میں آئے ہیں اور قرآن مجید میں پہلی دفعہ آئے ہیں اس لئے قرآن مجید جو غیب جاننے والے اللہ کی کتاب ہے نے ان دونوں آیتوں کو جوڑ کر اس اعتراض کا جو آئندہ زمانہ میں ہونے والا تھا جواب دے دیا ہے، فرماتا ہے۔وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفُسِقِينَ کہ قرآن کے ذریعہ صرف ان عہد توڑنے، فسق و فجور کرنے والوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ جو اللہ کے عہد کو پکا کرنے کے بعد توڑتے ہیں وَ يَقْطَعُونَ مَا اَمَرَ اللهُ بِهِ اَنْ يُوصَلَ اور جس تعلق کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔أولَبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ یہی لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔اس جواب کے ذریعہ واضح کر دیا کہ ہدایت دینا یا گمراہ ٹھہرانا اندھادھند کام نہیں۔جو لوگ اچھا کام کرتے ہیں ان کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور جو گناہ کرتے ہیں، عہد توڑتے ہیں، زمین میں گڑ بڑ اور فساد کرتے ہیں ان کو گمراہ قرار دیتا ہے۔