365 دن (حصہ اول) — Page 76
درس القرآن 76 رس القرآن نمبر 62 بِئْسَمَا اشْتَرُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى 609 مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُ وَ بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبِ وَ لِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ (البقرة:91) بنى اسرائیل کی سرکشیوں اور شرارتوں کے مضمون کے بیان میں اس آیت سے یہ مضمون بھی شروع ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل قرآن مجید کا انکار کیوں کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ ان کے انکار کا باعث یہ ہے کہ وہ یہ برداشت نہیں کرتے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور قوم پر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اپنا کلام نازل فرمائے اور ایسے لوگوں کو جو اس کے حقیقی بندے ہیں اور جن پر وہ اپنا کلام اتار نامناسب دیکھتا ہے ان کو اپنے کلام سے نوازے۔بنی اسرائیل کی یہ مصیبت قدیم زمانہ میں بھی تھی اور آج بھی چل رہی ہے۔اس کیفیت کا اظہار اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا جو حضور صلی ایلم کی زوجہ مطہرہ تھیں، نے بیان فرمایا ہے حضرت صفیہ ایک یہودی سردار کی بیٹی تھیں اور ان کا چچا بھی بڑے سر داروں میں سے تھا حضرت صفیہ بیان فرماتی ہیں کہ ان کا چا ان سے بہت لاڈ کر تا تھا مگر وہ ایک دن آیا تو اس نے میری طرف توجہ نہ کی اور انہوں نے اپنے باپ اور چا کی ایک گفتگو بیان کی کہ میرے باپ نے پوچھا۔ملاقات ہوئی؟ ہاں ہوئی۔کیا وہ سچے نبی ہیں؟ ہاں سچے نبی ہیں۔پھر ایمان لانا ہے ؟ ہر گز نہیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔(سیرت ابن ہشام من اجتمع الى يهود من منافقی الانصار صفحہ 364 دارالکتب العلمیة بیروت 2001ء) اس آیت میں فرماتا ہے بہت برا ہے جو انہوں نے اپنے نفوس بیچ کر ان کے بدلے حاصل کیا کہ اس حق کا انکار کر رہے ہیں جو اللہ نے اتارا اس بات کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کہ اللہ اپنے بندوں میں جن پر مناسب سمجھے اپنے فضل سے اپنا کلام اتارے۔پس وہ۔غضب پر غضب پر لئے ہوئے لوٹے اور ایسے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔