365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 75 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 75

درس القرآن درس القرآن نمبر 61 75 وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتب مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِينَ (البقرة: 90) اس آیت میں بنی اسرائیل کی نافرمانی اور سرکشی کا ایک اور اہم پہلو بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل کے پاس اللہ کی کتاب قرآن شریف اللہ کے حضور سے آئی ہے اور جو کتاب ان کے پاس ہے خود اس کی سچائی بھی قرآن شریف سے ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان کی کتاب میں پیشگوئیاں قرآن شریف کے بارہ میں رسول اکرم صلی ا یکم کی بعثت سے پوری ہو رہی ہیں اور اس طرح اصل سچی بائبل کی تصدیق ہوتی ہے مگر یہ لوگ اس کا بھی انکار کر رہے ہیں جس سے خود ان کی اپنی کتاب کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔حالانکہ یہی لوگ قرآن شریف کے نزول اور رسول اکرم صلی علیکم کی بعثت سے قبل ” خدا تعالیٰ سے نصرت دین کے لئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا۔اور وہ ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہو گا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ملک عرب میں آرہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔مگر جبکہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہو گیا تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہو گئے۔“ ( ضرورة الامام روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 476) اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے کہ جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک ایسی کتاب آئی جو اس (تعلیم) کی جو ان کے پاس تھی، تصدیق کر رہی تھی جبکہ حال یہ تھا کہ اس سے پہلے وہ ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے کفر کیا ( اللہ سے) مددمانگا کرتے تھے پس جب وہ ان کے پاس آگیا جسے انہوں نے پہچان لیا تو ( پھر بھی) اس کا انکار کر دیا پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔