365 دن (حصہ اول) — Page 77
درس القرآن 77 درس القرآن نمبر 63 وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ انْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ (البقرة:92) بنی اسرائیل کو یہ غصہ تھا کہ ان میں سلسلہ نبوت جاری رہنا چاہیئے تھا اس لئے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قرآن مجید پر ایمان لاؤ تو ان کا جواب تھا کہ ہم تو صرف اس کلام پر ایمان لائیں گے جو ہم بنی اسرائیل پر اتارا جائے اور اس کے علاوہ وہ ہر کلام کا انکار کرتے ہیں خواہ اس کلام میں دوز بر دست صفات پائی جائیں ایک تو یہ کہ وہ سراسر سچ اور حقیقت پر مشتمل ہو اور صرف سچا نہیں بلکہ بچے کاموں سے بڑھ کر سچا اور کامل صداقت پر مشتمل ہو۔پر دوسرے وہ کلام خود بنی اسرائیل پر اتارے گئے کلام کی تصدیق کرتا ہو اور ان کے کلام کی پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہو۔تعجب کی بات ہے وہ ایسے کلام کا بھی انکار کرتے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ وہ صرف بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے کلام کو ہی مانتے ہیں درست نہیں کیونکہ اگر تم ایسے ہی مومن ہو تو تم تو خود اپنے اپنے نبیوں کی مخالفت کرتے رہے اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہو۔پھر تمہارا یہ بہانہ کہ ہم قرآن پر اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ وہ بنی اسرائیل پر نہیں نازل ہو اسر اسر جھوٹ ہے اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کا تو تم انکار کرو تم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کرتے رہے ہو ، فرماتا ہے وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَ اَنْتُم ظُلِمُونَ (البقرة : 93) کہ حضرت موسیٰ تمہارے پاس کھلے کھلے دلائل اور نشانات لے کر آئے تھے پھر ان کی غیر موجودگی میں تم نے ایک بچھڑے کو خدا بنالیا ذرا سوچو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے اس لئے تمہارا یہ دعویٰ کہ تم صرف بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے کلام الہی کو مانتے ہو بھی سراسر غلط ہے۔