365 دن (حصہ اول) — Page 137
درس حدیث 137 رس حدیث نمبر 30 حضرت انس بیان کرتے ہیں مَر النَّبِ الله بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ که نبی صلی ال یکم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس رور ہی تھی۔آپ صلی للہ ہم نے اس عورت کو فرمایا اتقى اللهَ وَاصْبِرنی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو قَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصِبْ بِمُصِيبَتِي وَ لَمْ تَعْرِفْهُ اس عورت نے حضور صلی کم کو پہچانا نہیں اور کہہ دیا جاؤ جاؤ تمہیں میری جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ النَّبِيُّ يا الله کہ یہ نبی صلی ا م ہیں۔فَأَتَتْ بَابَ النَّبِي الله فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوابِيْنِ وہ نبی صلی الم کے دروازہ پر پہنچی اور وہاں اس کو کوئی دربان نہ ملا فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفُكَ اس نے حضور صلی الم سے عرض کی کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔فقال تو حضور صلی الم نے فرما یا إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدَمَةِ الأولى که صبر تو صرف وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔( بخاری کتاب الجنائز باب زيارة القبور (1283) ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے اس چھوٹے سے فقرہ میں ایک بہت بڑا سبق انسانوں کو دیا ہے۔انسان اس دنیا میں خوشیوں اور آرام کے ساتھ غم بھی اٹھاتا ہے، کبھی بیماری آتی ہے، کبھی مال کا نقصان ہو جاتا ہے، کبھی ماں باپ، بہن بھائیوں، خاوند بیوی، بچوں بچیوں کی وفات ہو جاتی ہے۔ان نقصانوں اور غموں کے باوجو د انسان کو اپنی زندگی گزارنی پڑتی ہے اور صبر کرنا پڑتا ہے۔مگر بعض لوگ اپنے غم کو لمبا کر کے بڑھاتے ہیں اور دراصل وہ اپنی تکلیف کو لمبا کر رہے ہوتے ہیں۔ہمارے نبی صلی ا ہم کو بھی ہر طرح کے غم آئے ، آپ صلی الم نے آنسو بھی بہائے مگر کبھی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا، کبھی کوئی بات جو اللہ کی ناراضگی کا موجب ہو زبان سے نہیں نکالی، لوگ بے صبری کا اظہار کرتے ہیں لیکن پھر آخر کار صبر کرنا ہی پڑتا ہے جو زندگی کی مجبوری ہے لیکن وہ صبر اصل صبر نہیں، اصل صبر تو صدمہ کے وقت ہوتا ہے جو خدا کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے۔