365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 136 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 136

درس حدیث درس حدیث نمبر 29 136 حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى ﷺ نے فرمایا إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إلى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِى الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ ( بخاری کتاب الرقاق باب لينظر الى من هو اسفل منه، ولا ينظر۔۔۔۔۔6490) کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس شخص کو دیکھے جس کو اس سے مال میں اور شکل و بناوٹ میں برتری ہے تو اس کی طرف بھی دیکھے جو اس سے نیچے ہے۔اس مختصر سی حدیث میں ہمارے نبی صلی الم نے جھوٹی فکر مندی اور حسد کی جڑھ کاٹ دی ہے۔اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسان جن کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہوئی ہیں۔ان لوگوں کو دیکھ جو زیادہ مال دار ہوں، زیادہ بڑا عہدہ ہوں، شکل و شباہت صحت و قوت میں بہتر ہوں، جلتے ہیں اور دکھ محسوس کرتے ہیں اور حسرت رکھتے ہیں کہ ان کو یہ چیزیں کیوں حاصل نہیں۔اگر انسان غور سے دیکھے تو اگر چہ بیماری، بھوک وغیرہ دنیا میں انسان کو ہزاروں بلائیں ہیں جن سے ایک انسان دکھ اٹھاتا ہے مگر بے شمار انسان بہت سی نعمتیں رکھتے ہوئے بھی دکھ اور جلن اور حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ بعض لوگوں کے پاس مال اس سے زیادہ ہے ، اس کی کو بھی اس کی کوٹھی سے بڑی ہے، اس کی بیوی اس کی بیوی سے زیادہ خوبصورت ہے، اس کی موٹر اس کی موٹر سے زیادہ اچھی ہے، ایسے آدمی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کتنے آدمی اس سے بہت زیادہ تکلیف اٹھا رہے ہیں۔اس کی آنکھیں ہیں، مگر ہزاروں آدمی ہیں جو دیکھ نہیں سکتے ، نابینا ہیں۔ایسے بھی ہیں جو دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں، ایسے بھی ہیں جو چلنے پھرنے سے معذور ہیں، ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی جرم کرنے کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پڑے جیل میں سڑ رہے ہیں۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی علیم نے انسان کو تکالیف کے باوجو د خوش رہنے کا ایک گر بھی بتا دیا ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو گے جو تم سے زیادہ بیمار ، تم سے زیادہ غریب، تم سے زیادہ تکلیف میں ہو تو بھی شکر پیدا ہو گا اور اپنی حالت پر اطمینان کی کیفیت ہو گی۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا گاؤں بھی نہیں جس میں آدمی اپنے سے زیادہ نیچے کو نہ دیکھ سکتا ہو۔