365 دن (حصہ اول) — Page 138
درس حدیث درس حدیث نمبر 31 138 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الم نے فرمایا لَيْسَ الشَّدِيدُ بالصُّرْعَةِ کہ بہادر اور مضبوط شخص وہ نہیں جو کشتی میں مقابل کو پچھاڑ لینے میں بہادر ہوا نما الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ بہادر اور مضبوط تو وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول اور ضبط رکھتا ہے۔( بخاری کتاب الأدب باب الحذر من الغضب 6114) اس حکمت اور دانائی سے بھری ہوئی حدیث میں جو بالکل مختصر الفاظ میں ہے ہمارے نبی صلی الم نے ایک ایسی بات فرمائی ہے کہ اگر انسان اس پر عمل کرے تو بہت سے جھگڑے، لڑائیاں، تلخیاں اور خون اور قتل جو لوگوں میں ہوتے ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے اور ہماری سوسائٹی، ہمارا معاشرہ محبت اور امن اور سکون کا معاشرہ بن جائے۔دیکھا گیا ہے کہ اکثر بچوں کی تربیت جو خراب ہوتی ہے وہ ماں باپ کی آپس کی تلخی اور کج بحثی کا نتیجہ ہوتی ہے۔خاوند ایک بات کہتا ہے اور بیوی اس کو برداشت نہیں کرتی اور وہ غصہ میں آکر خاوند کو اس سے بڑھ کر تلخ بات کہتی ہے یا بیوی ایک معمولی سی بات خاوند کو ناراضگی سے کہتی ہے اور خاوند اس کو بر داشت نہیں کرتا اور وہ بیوی سے زیادہ سخت جواب دیتا ہے اور اس رشتہ میں جو محبت کا رشتہ ہے ، غصہ اور ناراضگی اور تلخی پید اہو کر گھر کی فضاء زہریلی ہو جاتی ہے لیکن اگر خاوند اپنے نفس کے غصہ پر تھوڑی دیر کے لئے ضبط کر لے یا بیوی اپنے آپ تھوڑا ساکنٹرول کرے تو تھوڑی دیر میں بات آئی گئی ہو جاتی ہے اور صرف گھر کی بات نہیں بعض ملکوں اور قوموں کی بڑی بڑی جنگیں چند آدمیوں کے اپنے غصہ کو نہ دبانے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ہمارے نبی صلی الی یکم نے امن اور چین اور پیار کا ماحول بنانے کے لئے کیا اچھا فرمایا ہے کہ بہادر وہ ہے جو اپنے نفس پر ، اپنے جذبات پر کنٹرول کرتا ہے۔