365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 122 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 122

درس حدیث 122 رس حدیث نمبر 16 حضرت سلمان فارسی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی الم نے فرمایا: لا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَّوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَ يَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّى مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى (بخاری کتاب الجمعة باب الدهن للجمعة 833) کہ جو شخص جمعہ کے دن نہاتا ہے اور جتنی صفائی وہ کر سکتا ہے، کرتا ہے اور (بالوں) کے لئے چکنائی استعمال کرتا ہے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو وہ لگاتا ہے پھر جمعہ کے لئے گھر سے نکلتا ہے اور جمعہ میں دو آدمی جو اکٹھے بیٹھے ہیں ان کو الگ الگ کر کے اپنے لئے جگہ نہیں بناتا اور پھر جتنی اس کی قسمت میں ہو نماز پڑھتا ہے اور پھر جب امام خطبہ دے رہا ہو تو مکمل خاموشی اختیار کرتا ہے تو اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے درمیان اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔قرآن شریف نے جمعہ میں حاضری پر بہت زور دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جمعہ کے دن جب اذان کا وقت ہو تو تجارت وغیرہ سب کام چھوڑ کر جلد از جلد جمعہ کے لئے خدا کے گھر جانا چاہیئے اور پھر جب جمعہ کی نماز ہو جائے تو پھر اپنا کام کر سکتے ہو۔(الجمعۃ:10-11) جو حدیث ہم نے آج پڑھی ہے اس میں تفصیل سے جمعہ کے آداب بتائے گئے ہیں، جمعہ کے دن نہانا، دھونا، پوری طرح صفائی کرناضروری ہے اور صفائی اور زیب و زینت کا حصہ ہی ہے کہ آدمی تیل وغیرہ استعمال کرے اور خوشبو لگائے۔پھر بعض لوگ جب جمعہ کے لئے جاتے ہیں تو پہلے سے آئے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے جا کر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں یا اکٹھے بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہٹا کر اپنے لئے جگہ بناتے ہیں یہ نہایت نا پسندیدہ بات ہے جہاں جگہ ہو وہاں جاکر جتنی سنتوں کی توفیق ملے ، جتنی رکعتیں نصیب میں ہوں ادا کرنی چاہئیں اور ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ جمعہ کے دوران میں مکمل خاموشی ہونی چاہیئے ، باتوں کی آواز بالکل نہیں آنی چاہیئے۔حضور صلی نیلم نے فرمایا ہے کہ جو ان آداب کے ساتھ جمعہ ادا کرتا ہے وہ ہفتہ بھر کے لئے اللہ کی طرف سے اپنی مغفرت کا سامان کر لیتا ہے۔