365 دن (حصہ اول) — Page 121
121 مگر نہ پائے اور پانی اور کھانے سے محروم ہو کر وہ اپنی جگہ آکر لیٹ جائے اور سمجھے کہ اب موت کے سوا اس کے لئے کچھ نہیں، اتنے میں سو جائے۔جب اس کی آنکھ کھلے تو وہ دیکھے کہ اس کی اونٹنی اس کے سر پر کھڑی ہے اور یہ مسافر اپنی خوشی میں بے ساختہ یہ کہہ بیٹھے کہ اے اللہ ! تیر اشکر ہے تو میر ا بندہ ہے اور میں تیر ارب ہوں۔اس کا خوشی کی وجہ سے بد حواسی کا یہ حال ہو تو آپ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندہ کی تو بہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہو تا ہے جتنا یہ مسافر۔(مسلم کتاب التوبة باب فى الحض على التوبة والفرح بها 6960/6955)